عراقی پارلیمان پر حملے کی مذمت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی پارلیمان کے اندر ہونے والے ایک خودکش حملے کے احتجاج میں جمعہ کے روز پارلیمان کا ایک خصوصی سیشن منعقد کیا گیا ہے۔ اسپیکر محمود المشہدانی نے کہا کہ پارلیمان کا خصوصی سیشن ’تمام دہشت گردوں کے لیے چیلنج ہے جو عراق میں جمہوری عمل کو روکنا چاہتے ہیں۔‘ خصوصی سیشن کے دوران رکن پارلیمان محمد عوض کو خراج عقیدت پیش کی گئی۔ جمعرات کے روز پارلیمان کے کیفیٹریا میں ہونے والے حملے میں تین سیاست دان مارے گئے تھے۔ القاعدہ سے منسلک شدت پسندوں نے اس حملے کا دعویٰ کیا ہے تاہم بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ ثابت کرنا ناممکن ہے کہ یہ دعویٰ کتنا سچا ہے۔ جمعہ کے روز پارلیمان کا سیشن منعقد نہیں ہوتا ہے لیکن اسپیکر محمود المشہدانی نے یہ سیشن ’دہشت گردی کے رد‘ میں بلائی تھی۔ عراقی پارلیمنٹ بغداد میں انتہائی سکیورٹی والے گرین زون میں واقع ہے۔ امریکہ اور برطانیہ نے اس دھماکے کو جمہوریت پر ایک حملہ قرار دیا۔ امریکہ نے کہا ہے کہ یہ امن اور استحکام کو برباد کرنے کا ایک حربہ ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ مارگریٹ بیکٹ نے کہا ہے کہ یہ بیمار ذہنوں کی پیداوار ہے۔ |
اسی بارے میں عراقی شیعہ احتجاج کے لیے تیار09 April, 2007 | آس پاس ’ایرانی سفارت کار زخمی تھے‘11 April, 2007 | آس پاس امریکی فوجیوں کے قیام میں توسیع 11 April, 2007 | آس پاس ’عراق پالیسی ناقص ہے‘11 April, 2007 | آس پاس ایران پر سنیوں کی مدد کا الزام12 April, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||