BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 August, 2007, 00:04 GMT 05:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراقی حکومت کو شدید دھچکا
بائیکاٹ کا فیصلہ نوری المالکی کے لیے شدید دھچکا سمجھا جارہا ہے
سابق عراقی وزیراعظم ایاد علاوی کی جماعت سے تعلق رکھنے والے عراقی کابینہ کے پانچ اراکین نے کابینہ کے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

’العراقیہ‘ سے تعلق رکھنے والے ان سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ شیعہ اکثریتی والی حکومت فرقہ وارنہ بنیاد پر اقرباء پروری کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔

العراقیہ کے ان وزارء کے فیصلے کے بعد زیراعظم نوری المالکی کی کابینہ میں سنی برادری سے کوئی بھی نمائندہ نہیں بچا ہے۔ گزشتہ ہفتے سنی عربوں کے نمائندہ اتحاد ’اکارڈنس فرنٹ‘ نے اپنے اراکین کابینہ سے واپس بلالیے۔

عراقی وزیراعظم ہوشیار زیباری نے اعتراف کیا ہے کہ ایاد علاوی کی جماعت العراقیہ کے کابینہ کے اجلاس کے بائیکاٹ کے فیصلہ سے نوری المالکی کی حکومت کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

تاہم ہوشیار زیباری نے کہا کہ حکومت مختلف جماعتوں سے مذاکرات کررہی ہے تاکہ اختلافات دور کیے جاسکیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے پر آئند چند دنوں میں ایک اجلاس بلایا جارہا ہے۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عراق میں سنی اور شیعہ برادریوں کے درمیان تعلقات بہتر کرنے کی راہ میں کابینہ بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ ایک رکاوٹ ثابت ہوگا۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت اس وقت کافی کمزور لگ رہی ہے۔ عراقی اراکین پارلیمنٹ ان دنوں چھٹیوں پر ہیں اور ستمبر میں ہی وہ پارلیمان کے اجلاس میں شرکت کے لیے واپس ہونگے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد