عراقی حکومت کو شدید دھچکا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق عراقی وزیراعظم ایاد علاوی کی جماعت سے تعلق رکھنے والے عراقی کابینہ کے پانچ اراکین نے کابینہ کے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ ’العراقیہ‘ سے تعلق رکھنے والے ان سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ شیعہ اکثریتی والی حکومت فرقہ وارنہ بنیاد پر اقرباء پروری کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ العراقیہ کے ان وزارء کے فیصلے کے بعد زیراعظم نوری المالکی کی کابینہ میں سنی برادری سے کوئی بھی نمائندہ نہیں بچا ہے۔ گزشتہ ہفتے سنی عربوں کے نمائندہ اتحاد ’اکارڈنس فرنٹ‘ نے اپنے اراکین کابینہ سے واپس بلالیے۔ عراقی وزیراعظم ہوشیار زیباری نے اعتراف کیا ہے کہ ایاد علاوی کی جماعت العراقیہ کے کابینہ کے اجلاس کے بائیکاٹ کے فیصلہ سے نوری المالکی کی حکومت کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ تاہم ہوشیار زیباری نے کہا کہ حکومت مختلف جماعتوں سے مذاکرات کررہی ہے تاکہ اختلافات دور کیے جاسکیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے پر آئند چند دنوں میں ایک اجلاس بلایا جارہا ہے۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عراق میں سنی اور شیعہ برادریوں کے درمیان تعلقات بہتر کرنے کی راہ میں کابینہ بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ ایک رکاوٹ ثابت ہوگا۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت اس وقت کافی کمزور لگ رہی ہے۔ عراقی اراکین پارلیمنٹ ان دنوں چھٹیوں پر ہیں اور ستمبر میں ہی وہ پارلیمان کے اجلاس میں شرکت کے لیے واپس ہونگے۔ | اسی بارے میں ’عراق جنگ کا تناؤ، گیٹس کی آنکھیں نم‘20 July, 2007 | آس پاس میچ، بغداد میں سکیورٹی سخت29 July, 2007 | آس پاس عراق: انسانی بحران بد سے بدتر30 July, 2007 | آس پاس امریکی منصوبے کی سعودی حمایت01 August, 2007 | آس پاس عراق: چار امریکی فوجی ہلاک 03 August, 2007 | آس پاس سنی وزراء استعفے واپس لیں: مالکی05 August, 2007 | آس پاس روضۂ عسکری پر حملہ کرنیوالا ہلاک05 August, 2007 | آس پاس عراق میں ہزاروں رائفلیں غائب06 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||