امریکی منصوبے کی سعودی حمایت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ امریکہ کی خواہش پر عمل کرتے ہوئے عراق کی شیعہ اکثریتی حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات کا آغاز کرنے کےامکان کا سنجیدگی سے جائزہ لے گا۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ نےامریکہ کے وزیر دفاع اور وزیر خارجہ کو بتایا کہ وہ اس سلسے میں ایک وفد عراق بھجوائیں گے۔ امریکی وزیرخارجہ کونڈولیزا رائس نے اسے ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے سعودی وزیرخارجہ شہزادہ سعود الفیصل کا شکریہ ادا کیا۔ پرنس سعود الفیصل نے یہ بھی کہا کہ ان کا ملک اس سال صدر جارج بش کی جانب سے بلائی جانے والی مشرق وسطیٰ امن کانفرنس کی حمایت کرتا ہے اور سعودی عرب اس میں شرکت بھی کرے گا۔ سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امن کانفرنس میں اسرائیل کی موجودگی سعودی عرب کی شرکت سے سفارتی سطح پر ایک بڑا قدم ہوگا۔ امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس اور وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہزادہ سعود الفیصل نے کہا: ’ہم نئے قدم کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ ایک بین الاقوامی مہم چل رہی ہے اور اسرائیل کو چاہیئے کہ وہ اس دباؤ کا (مثبت) جواب دے۔‘ امریکی وزراء کے مشرق وسطیٰ کے دورہ کے آغاز سے پہلے امریکہ نے سعودی عرب سمیت خلیجی ریاستوں کو بیس ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے کی پیش کش کی۔ ہتھیاروں کی یہ ڈیل ابھی سے ہی امریکہ میں متنازعہ بن گئی ہے اور کانگریس کے دو ڈیموکریٹ ارکان نے کہا ہے کہ وہ اس ڈیل کو روکنے کے لیے نیا قانون متعارف کرائیں گے۔ تنقید شہزادہ سعود الفیصل نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر زلمے خلیلزاد کا حالیہ بیان سن کر ’ششدر‘ رہ گئے ہیں جس میں انہوں نے الزام لگایا ہے کہ سعودی عرب جنگ زدہ عراق میں استحکام پیدا کرنے کی کوششوں کو خراب کر رہا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ میں سمجھتا ہوں کہ زلمے نیویارک جا کر اقوام متحدہ کےعمومی ماحول سے متاثر ہو گئے ہیں۔‘ واضح رہے کہ اقوام متحدہ سے پہلے زلمے خلیلزاد عراق میں امریکی سفیر تھے۔ انیس سو نوے میں پہلح خلیجی جنگ کے بعد سے سعودی عرب نے عراق میں اپنا سفارتخانہ نہیں رکھا ہے۔ سنہ دو ہزار تین میں صدام حسین کا تختہ الٹنے کے بعد امریکہ اس سلسلے میں سعودی عرب پر دباؤ ڈاالتا رہا ہے۔ |
اسی بارے میں رائس، عباس اوراولمرت ملاقاتیں18 February, 2007 | آس پاس مشرقِ وسطیٰ: آج سہ فریقی مذاکرات19 February, 2007 | آس پاس مذاکرات جاری رہیں گے: رائس19 February, 2007 | آس پاس امریکہ، ایران اور شام سے بات پر تیار27 February, 2007 | آس پاس میزائل نظام نصب کریں گے: رائس15 May, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||