BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 October, 2007, 16:08 GMT 21:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ترکی عراق میں فوج بھیج سکتا ہے: طیب
عراق کی سرحد پر ترکی کی فوج
ترکی کے وزیرِ اعظم نے کہا کہ کارروائی عراق پر نہیں بلکہ پی کے کے کے خلاف کی جائے گی
ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوگان نے لندن کے دورے کے دوران ایک بیان میں کہا ہے کہ ترکی کسی بھی وقت شمالی عراق میں اپنی فوج بھیج سکتا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن کا کہنا ہے کہ وہ اِس بحران سے نمٹنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھیں گے۔ شمالی عراق سے کرد علیحدگی پسندوں کی جانب سے ترکی کی فوج پر کیے گئے حالیہ حملوں کے بعد ترکی عراقی سرحد کے پاس مسلسل اپنی فوج اور بھاری اسلحے میں اضافہ بھی کر رہا ہے۔

اِسی دوران بغداد میں عراق کے وزیر خارجہ ہوشیار زباری نے کہا ہے کہ اُن کی حکومت شمالی عراق میں ترکی کی سرحد کے ساتھ کرد علیحدگی پسندوں کی جانب سے پیدا کیے گئے مسلے کو حل کرنے میں ترکی کی بھرپور مدد کرے گی۔

مسٹر زباری نے مزید کہا کہ وہ کرد علیحدگی پسند تنظیم پی کے کے کو عراق اور ترکی کے درمیان تعلقات میں زہر گھولنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اُنہوں نے یہ بات اپنے ترکی ہم منصب، علی باباکان سے ملاقات کے بعد کہی۔

مسٹر باباکان نے کرد علیحدگی پسند تنظیم پی کے کے کی جانب سے مشروط فائر بندی کی پیشکش یہ کہہ کر مسترد کردی ہے کہ ترکی کسی دہشت گرد تنظیم سے مذاکرات نہیں کرے گا۔ اِدھر لندن میں برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن سے ملاقات کے بعد ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوگان نے کہا کہ فوجی کارروائی عراق پر نہیں بلکہ پی کے کے کے خلاف کی جائے گی۔

نشانہ صرف پی کے کے
 اس کارروائی کا ہدف صرف پی کے کے ہوگی کیونکہ ہم نے ہمیشہ عراقی عوام کے شانہ بشانہ کام کیا ہے جنہوں نے ماضی میں خاصا مشکل وقت گزارا ہے۔ ہم عراقی عوام کی بدستور حمایت کرتے رہیں گے۔ ہماری عراق کی سیاسی یا علاقائی سالمیت پر نظر نہیں بلکہ ہم تو عراق کو ایک جمہوری راستے پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں
وزیرِ اعظم رجب طیب اردوگان

انہوں نے کہا کہ ’اس کارروائی کا ہدف صرف پی کے کے ہوگی کیونکہ ہم نے ہمیشہ عراقی عوام کے شانہ بشانہ کام کیا ہے جنہوں نے ماضی میں خاصا مشکل وقت گزارا ہے۔ ہم عراقی عوام کی بدستور حمایت کرتے رہیں گے۔ ہماری عراق کی سیاسی یا علاقائی سالمیت پر نظر نہیں بلکہ ہم تو عراق کو ایک جمہوری راستے پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

اس موقع پر برطانوی وزیر اعظم، گورڈن براؤن نے کہا کہ برطانیہ ترکی کے ساتھ مل کر کرد باغیوں کی جانب سے پیدا کیے گئے مسئلے کو حل کرنے میں مدد کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم ترکی کے ساتھ انسداد دہشتگردی کی کارروائی میں مدد کرنے کے پابند ہیں تاکہ اس مسئلہ کو جڑ سے ختم کرسکیں۔ عراق کے اندر سے جنم لینے والے اِس مسئلے کے حل کے لیے ہم بدستور سفارتی کوششیں بھی کرتے رہیں گے۔‘

عراق ترکی سرحد سے جنم لینے والے اس تنازعے پر تمام متعلقہ دارالحکومتوں میں جاری سفارتی سرگرمیاں اِس بات کا ثبوت ہیں کہ انقرہ، بغداد، لندن اور واشنگٹن اس مسئلے کو کتنی اہمیت دے رہے ہیں۔ لندن میں جہاں مسٹر اردوگان نے یہ کہا کہ ان کے پاس ترکی کی پارلیمان کی جانب سے شمالی عراق میں فوج بھیجنے کی منظوری موجود ہے تو وہاں یہ بھی نظر آرہا ہے کہ وہ اِس کارروائی سے پہلے دوست ممالک سے بات چیت بھی کرنا چاہتے ہیں۔ اُدھر واشنگٹن کا جھکاؤ عراق کی جانب ہے لیکن وہ بدستور کرد رہنماؤں سے رابطے میں بھی ہے تاکہ ان پر کرد علیحدگی پسندوں پر قابو پانے کے لیے اقدامات پر دباؤ ڈالا جاسکے۔ تاہم ابھی تک یہ تنازعہ بظاہر سفارتی دباؤ اور بات چیت کے مرحلے میں ہی نظر آ رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد