BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 October, 2007, 00:44 GMT 05:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’صبر وتحمل کی پالیسی اب بدل رہی ہے‘

’اگر ایک اور بڑا حملہ ہوا تو فوجی کارروائی ناگزیر ہو جائے گی‘
جب سے ترک پارلیمان نے شمالی عراق میں کردوں کے خلاف کارروائی کی منظوری دی ہے دنیا بھر کے رہنما ترکی سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرے۔

گزشتہ بدھ کو ترک پارلیمان نے انیس کے مقابلے میں پانچ سو سات ووٹوں سے کارروائی کی قرارداد کی منظوری دی۔ تاہم اس قرارداد کی منظوری کے باوجود ترک وزیراعظم طیب اردگان کا کہنا ہے کہ انہیں اس کارروائی کا قانونی جواز مل گیا ہے تاہم ترکی فوری طور پر کسی ایسے ایکشن کا ارادہ نہیں رکھتا۔

اس حوالے سے استنبول کے ایک استاد سولی اوزل کہتے ہیں’ آخرِ کار ترکی کو دنیا کی توجہ حاصل ہو ہی گئی‘۔

ان کا کہنا ہے کہ’ترکی کافی عرصے سے ’پی کے کے‘ کے بارے میں چلاّ رہا ہے لیکن ہمیں لوگوں کو اس مسئلے کے بارے میں بیدار کرنے کے لیے اس حد تک جانا پڑا ہے۔ شاید لوگ سوچ رہے ہوں کہ ہم دھوکہ کر رہے ہیں جبکہ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے‘۔

ترکی کی حکمران جماعت اے کے پارٹی کے رکن اور پارلیمان کی امورِ خآرجہ کمیٹی کے ترجمان سوات کینی کلیو اوگلو کا کہنا ہے کہ ’ترک عوام اور فوج کر کردوں کے حملے ایک سنگِ میل ثابت ہوئے اور اب شمالی عراق کے حوالے سے ہماری صبر وتحمل کی پالیسی اب بدل رہی ہے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ’ ہمیں ’ پی کے کے‘ اور انہیں پناہ دینے والوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر کسی کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ حالات جوں کے توں برقرار نہیں رہ سکتے‘۔

ادھر ترک عوام میں کرد علیحدگی پسندوں کے حملوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والےافراد کے حوالے سے بہت جوش پایا جاتا ہے اور ترکی کی قومی فٹبال ٹیم کے مینجر کی جانب سے’ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مصرف جانبازوں کی مدد کے لیے مہم‘ کے نتیجے میں پانچ دن میں چھپّن ملین ڈالر جمع کیے گئے ہیں۔

ترک پارلیمان نے شمالی عراق میں کردوں کے خلاف کارروائی کی منظوری دی ہے

مبصرین کردوں کی خلاف ترکی کے اقدامات کے حوالے سے سنہ 1998 کو یاد کرتے ہیں جب ترکی نے شام میں موجود کرد علیحدگی پسندوں کو ختم نہ کرنے کی صورت میں شام کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔ اور پھر شام نے کرد گروپ کے بانی عبداللہ اوکلان کو ملک سے نکال دیا تھا اور ان کی گرفتاری سے ترک کرد جھڑپوں میں پانچ برس کا تعطل آ گیا تھا۔

تاہم اس مرتبہ باری شام کی جگہ عراق کی ہے اور ’پی کے کے‘ کے حملوں میں اضافے کے بعد اب جہاں عراق پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ کردوں کے خلاف کارروائی کرے وہیں امریکہ سے بھی یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔

ترکی کا یہی ماننا ہے کہ اس نے اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے اور اب اسے جواباً ٹھوس کارروائی کی امید ہے۔ ترک کالم نگار مہمت علی براند کا کہنا ہے کہ’ اب ترکی سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ عراقی کردوں اور پی کے کے سے بات کرے اور انہیں سمجھائے کہ اس بار ترکی اس معاملے میں سنجیدہ ہے کیونکہ اگر ایک اور بڑا حملہ ہوا تو فوجی کارروائی ناگزیر ہو جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد