 | | | یہ واضح نہیں ہے کہ اسرائیل نے حملہ کیوں کیا |
اسرائیل نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس نے گزشتہ ماہ شام کی ایک فوجی تنصیبات پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے کے لیے شام نے اسرائیل پر الزام لگایا تھا لیکن اسرائیلی حکام نے کچھ کہنے سے انکار کر دیا تھا اور اسرائیلی فوج کے سنسر نے اس بارے میں اطلاعات کی فراہمی پر پابندی عائد کردی تھی۔ لیکن فوجی سنسر کے دفتر نے اب اس بات کی اجازت دی ہے کہ بعض اطلاعات ریلیز کی جاسکتی ہیں۔ پیر کے روز شام کے صدر بشر الاسد نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ چھ ستبمر کو شامی فوج کا ایک تعمیراتی مرکز اسرائیلی حملے کا نشانہ بنا تھا۔ صدر بشر الاسد نے کہا ہے کہ شام اسرائیلی حملے کا جواب دے گا۔ شام اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات سن 2000 میں ناکام ہوگئے تھے۔ اسرائیل نے انیس سو سڑسٹھ کی جنگ میں گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا تھا اور تب سے دونوں ملک ’حالتِ جنگ‘ میں ہیں۔ چھ ستمبر کی صبح اسرائیل کے فوجی طیاروں کو شام کی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ عینی شاہدین نے بتایا تھا کہ اسرائیلی اور شامی فوجی طیارے ترکی کی سرحد کے قریب رابطے میں آئے تھے۔ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ اسرائیل نے وہ حملہ کیوں کیا تھا اور اس حملے کا نشانہ درحقیقت کیا چیز تھی۔ منگل کے روز اسرائیلی فوجی ریڈیو پر بتایا گیا کہ اسرائیلی طیاروں نے ’شام کےکافی اندر‘ فوجی ٹھکانے کو نشانہ بنایا تھا۔ تاہم اس حملے کے بارے میں مزید اطلاعات نہیں فراہم کی گئی ہیں۔ بعض امریکی اہلکارں نے اسرائیلی حملے کا تعلق شام اور شمالی کوریا کے درمیان ایٹمی تعاون سے بتایا ہے۔ دمشق اور پیونگ یانگ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ بعض رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حملے میں لبنان میں سرگرم تنظیم حزب اللہ کے لیے بھیجے جانے والے ایرانی اسلحے کو نشانہ بنایا گیا ہوگا۔
|