BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’علیحدگی پسندوں پر فتح ضروری‘
ترک فوج
’سرحد پار کارروائی کا منصوبہ ہے تاہم فوری طور پر نہیں‘۔
ترکی کا کہنا ہے کہ وہ کرد علیحدگی پسندوں پر قابو پانے کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہے۔

ترک حکومت کی جانب سے یہ بیان عراق اور ترکی کے سرحدی علاقے میں ترک فوج اور کرد علیحدگی پسندوں کے درمیان تازہ جھڑپوں میں بارہ ترک فوجیوں اور بتیس علیحدگی پسندوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا ہے۔

ان تازہ ہلاکتوں کے بعد ترکی کے صدر عبداللہ گل کی صدارت میں اعلٰی حکومتی اور فوجی افسران کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ اگرچہ ترکی عراق کی علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے تاہم وہ دہشتگردی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں اور وہ اپنے حقوق، اتحاد اور شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہے اور علیحدگی پسند دہشتگرد تنظیم کے خلاف لڑائی آخر تک پرعزم طریقے سے لڑی جائے گی‘۔

ترکی کے وزیراعظم طیب اردگان نے کہا ہے کہ امریکی وزیرِخارجہ کونڈالیزا رائس نے ترکی سے کہا ہے کہ وہ آئندہ چند دن تک کارروائی نہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکہ ترکی کے خدشات پر غور کر رہا ہے۔

اس سے قبل ترک وزیرِ دفاع وسدی گونل نے امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس سے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا تھا کہ عراقی سرزمین پر موجود کردستان ورکرز پارٹی کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی زیرِ غور ہے تاہم انہوں نے فوری طور پر اس کارروائی کے امکان کو رد کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ’سرحد پار کارروائی کا منصوبہ ہے تاہم فوری طور پر نہیں‘۔

 اگرچہ ترکی عراق کی علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے تاہم وہ دہشتگردی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں اور وہ اپنے حقوق، اتحاد اور شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہے
ترک حکومت

یاد رہے کہ پانچ دن قبل ہی ترکی کی پارلیمان نے فوج کو سرحد پار آپریشن کی اجازت دی تھی تاکہ علاقے میں سرگرم شدت پسندوں کو تلاش کیا جا سکے۔یہ فیصلہ ایسے متعدد حملوں کے بعد کیا گیا جن میں تقریباً تیس فوجی مارے گئے تھے ان حملوں کے لیے ’پی کے کے‘ کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ استنبول میں بی بی سی کی نامہ نگار سارہ رینسفورڈ کا کہنا ہے کہ خیال ہے کہ شمالی عراق میں ’پی کے کے‘ کے تقریباً تین ہزار شدت پسند سرگرم ہیں۔

ادھر امریکہ نے ترکی سے تحمل کی اپیل کی ہے۔امریکہ اور عراق کو خدشہ ہے کہ کسی بھی طرح کی دراندازی عراق کے سب سے پر امن علاقے میں عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔

ترکی امریکہ اور عراق سے اپیل کرتا رہا ہے کہ وہ ترکی کی سرحد کے ساتھ لگنے والے پہاڑی علاقوں میں ’پی کے کے‘ باغیوں کے خلاف کارروائی کریں اور عراقی پارلیمان کی جانب سے فوج کو سرحد پار عراق میں کارروائی کرنے کی اجازت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ترکی اس مسئلے پر بہت سنجیدہ ہے کہ اس کے اتحادی ممالک ’پی کے کے‘ کے بارے میں کوئی کارروائی کریں۔

واشنگٹن ’پی کے کے‘ کو دہشت گرد تنظیم کی فہرست میں شمار کرتا ہے لیکن امریکہ نے ترکی سے کہا ہے کہ وہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے عراق کے ساتھ مل کر کام کرے۔

ترکی استنبولیورپی یونین اور ترکی
یورپ میں ترکی کے حامی اور مخالف کون کون؟
عبداللہ گلترکی: انتخابی بحران
آئینی عدالت نے انتخابات کو کاالعدم قرار دے دیا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد