BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 September, 2006, 06:01 GMT 11:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ترکی میں بم دھماکہ، سات ہلاک
حکام کو خدشہ ہے کہ بم موبائل فون کے ٹائمر کے ذریعے چلایا گیا
ترکی کے شہر دیار بکر میں بم کا زور دار دھماکہ ہوا ہے جس میں سات افراد ہلاک اور کم از کم سترہ کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق ہلاک شدگان میں پانچ بچے بھی شامل تھے۔ جنوب مشرقی ترکی کے اس شہر میں کردوں کی اکثریت ہے۔

خیال کیا جارہا ہے کہ بم کا دھماکہ ایک مصروف پارک کے نزدیک ایک بس سٹاپ پر ہوا ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ بم موبائل فون کے ٹائمر کے ذریعے چلایا گیا۔ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق شام کے نو بجے ہوا۔

اس دھماکے سے قبل ترکی بھر میں کرد علیحدگی پسند گروپ پی کے کے‘ سے منسلک پر تشدد واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

یہ دھماکہ ایسے وقت پر ہوا ہے جب ایک امریکی مندوب ملک میں تشدد آمیزی اور بم دھماکوں کے واقعات میں کمی پر مذاکرات کے لیئے ترکی پہنچے ہیں۔

ایک کرد علیحدگی پسند گروپ ’کردش فریڈم فالکنز‘ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس گروپ نے پچھلے ہفتے اپنی ویب سائیٹ پر دھمکی دی تھی کہ وہ ’ترکی کو جہنم بنادیں گے‘۔

ترکی کے سیاحتی مقامات پر حالیہ بم دھماکوں میں 12 افرادہلاک اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔

ملک کے جنوب مشرقی حصے میں ترک فوج اور کرد علیحدگی پسندوں کے درمیان جھرپوں کا سلسلہ گزشتہ بیس برس سے زائد عرصے سے جاری ہے۔

پیر کو ترکی کی بڑی کرد سیاسی جماعت نے پی کے کے پر زور دیا تھا کہ وہ مذاکرات اور امن کی راہ ہموار کرنے کے لیئے یکطرفہ سیز فائر کا اعلان کردے۔

اسی بارے میں
ترکی بم دھماکہ، دو ہلاک
04 August, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد