ترکی میں بم دھماکہ، سات ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی کے شہر دیار بکر میں بم کا زور دار دھماکہ ہوا ہے جس میں سات افراد ہلاک اور کم از کم سترہ کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ہلاک شدگان میں پانچ بچے بھی شامل تھے۔ جنوب مشرقی ترکی کے اس شہر میں کردوں کی اکثریت ہے۔ خیال کیا جارہا ہے کہ بم کا دھماکہ ایک مصروف پارک کے نزدیک ایک بس سٹاپ پر ہوا ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ بم موبائل فون کے ٹائمر کے ذریعے چلایا گیا۔ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق شام کے نو بجے ہوا۔ اس دھماکے سے قبل ترکی بھر میں کرد علیحدگی پسند گروپ پی کے کے‘ سے منسلک پر تشدد واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ دھماکہ ایسے وقت پر ہوا ہے جب ایک امریکی مندوب ملک میں تشدد آمیزی اور بم دھماکوں کے واقعات میں کمی پر مذاکرات کے لیئے ترکی پہنچے ہیں۔ ایک کرد علیحدگی پسند گروپ ’کردش فریڈم فالکنز‘ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس گروپ نے پچھلے ہفتے اپنی ویب سائیٹ پر دھمکی دی تھی کہ وہ ’ترکی کو جہنم بنادیں گے‘۔ ترکی کے سیاحتی مقامات پر حالیہ بم دھماکوں میں 12 افرادہلاک اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔ ملک کے جنوب مشرقی حصے میں ترک فوج اور کرد علیحدگی پسندوں کے درمیان جھرپوں کا سلسلہ گزشتہ بیس برس سے زائد عرصے سے جاری ہے۔ پیر کو ترکی کی بڑی کرد سیاسی جماعت نے پی کے کے پر زور دیا تھا کہ وہ مذاکرات اور امن کی راہ ہموار کرنے کے لیئے یکطرفہ سیز فائر کا اعلان کردے۔ | اسی بارے میں ترکی بم دھماکہ، دو ہلاک04 August, 2005 | آس پاس عدالت میں فائرنگ، جج ہلاک17 May, 2006 | آس پاس ترکی کے حامی اور مخالف کون کون؟03 October, 2005 | آس پاس ترکی میں حجاب پر پابندی کی تائید 10 November, 2005 | آس پاس ترکی کے متنازعہ قانون میں ’ترمیم‘29 December, 2005 | آس پاس ترکی کی شمولیت کے لیے مذاکرات12 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||