عدالت میں فائرنگ، جج ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی کی عدالت عظمیٰ میں فائرنگ کے واقعہ میں زخمی ہونے والے ایک جج ہسپتال میں انتقال کر گئے ہیں۔ چھ گھنٹے تک جاری کوششوں کے باوجود ڈاکٹر جج اوزلبن کو نہ بچا سکے۔ زحمی ہونے والی ججوں میں سے ایک شدید زخمی ہیں جبکہ تین کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ خطرے سے باہر ہیں۔ ترک صدر نے اس حملے کو جمہوریہ ترکی کے سکیولر اصولوں کے خلاف ایک حملہ قرار دیا ہے لیکن کہا ہے کہ اسے کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ عدالت میں حملہ یہ فائرنگ ’کونسل آف سٹیٹ‘ میں ہوئی جو کہ ملک کی سب سے اعلیٰ عدالت ہے۔ حملہ آور ایک وکیل تھا جو اس وقت پولیس کی حراست میں ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار کیا جانے والا شخص اپنے آپ کو اللہ کا سپاہی کہتا ہے ۔ اس نے حملہ کرنے سے پہلے نعرہ تکبیر بلند کیا تھا زخمیوں میں وہ جج بھی شامل ہیں جنہوں نے حال ہی میں حجاب سے متعلق ایک متنازع فیصلہ دیا تھا۔
جج مصطفی بردن نے اس سال فیصلہ دیا تھا کہ کہ سکول کی ٹیچرز سکول جاتے ہوئے بھی حجاب نہیں پہن سکتیں۔ سکول میں حجاب پہننا منع ہے لیکن اس فیصلے کے مطابق یہ پابندی سکول کے راستے تک بھی عائد ہو گئی۔ اس فیصلے پر ترکی کے وزیر اعظم نے بھی تنقید کی تھی اور انہوں نے اسے ’غیر قانونی‘ قرار دیا تھا۔ ٹیلی وژن چینل ’این ٹی وی‘ کے مطابق حملہ آور نے فائرنگ کے وقت اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔ ترکی کے وزیر انصاف نے اس حملے کی مذمت کی ہے۔ | اسی بارے میں ترکی میں حجاب پر پابندی کی تائید 10 November, 2005 | آس پاس ترکی کے متنازعہ قانون میں ’ترمیم‘29 December, 2005 | آس پاس ترکی: خودکش حملہ آور خاتون ہلاک 07 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||