BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عدالت میں فائرنگ، جج ہلاک
زخمی افراد کے رشتہ دار عدالت کے باہر پہنچ گئے
جس وقت حملہ ہوا عدالت میں ایک مقدمے کی سماعت جاری تھی
ترکی کی عدالت عظمیٰ میں فائرنگ کے واقعہ میں زخمی ہونے والے ایک جج ہسپتال میں انتقال کر گئے ہیں۔

چھ گھنٹے تک جاری کوششوں کے باوجود ڈاکٹر جج اوزلبن کو نہ بچا سکے۔

زحمی ہونے والی ججوں میں سے ایک شدید زخمی ہیں جبکہ تین کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ خطرے سے باہر ہیں۔

ترک صدر نے اس حملے کو جمہوریہ ترکی کے سکیولر اصولوں کے خلاف ایک حملہ قرار دیا ہے لیکن کہا ہے کہ اسے کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

عدالت میں حملہ
انقرہ میں بدھ کو عدالت عظمیٰ میں ایک شخص نے فائرنگ کر کے پانچ ججوں کو زخمی کر دیا تھا جن میں سے دو کی حالت نازک بتائی گئی تھی ہے۔

یہ فائرنگ ’کونسل آف سٹیٹ‘ میں ہوئی جو کہ ملک کی سب سے اعلیٰ عدالت ہے۔

حملہ آور ایک وکیل تھا جو اس وقت پولیس کی حراست میں ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار کیا جانے والا شخص اپنے آپ کو اللہ کا سپاہی کہتا ہے ۔ اس نے حملہ کرنے سے پہلے نعرہ تکبیر بلند کیا تھا

زخمیوں میں وہ جج بھی شامل ہیں جنہوں نے حال ہی میں حجاب سے متعلق ایک متنازع فیصلہ دیا تھا۔

واقعے کے بعد ججوں کے عزیزواقارب موقعے پر پہنچ گئے

جج مصطفی بردن نے اس سال فیصلہ دیا تھا کہ کہ سکول کی ٹیچرز سکول جاتے ہوئے بھی حجاب نہیں پہن سکتیں۔ سکول میں حجاب پہننا منع ہے لیکن اس فیصلے کے مطابق یہ پابندی سکول کے راستے تک بھی عائد ہو گئی۔

اس فیصلے پر ترکی کے وزیر اعظم نے بھی تنقید کی تھی اور انہوں نے اسے ’غیر قانونی‘ قرار دیا تھا۔

ٹیلی وژن چینل ’این ٹی وی‘ کے مطابق حملہ آور نے فائرنگ کے وقت اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔

ترکی کے وزیر انصاف نے اس حملے کی مذمت کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد