BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 October, 2007, 03:04 GMT 08:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ترک سفیر کو واپسی کی ہدایت
قرارداد کی منظوری پر ترکی میں امریکہ مخالف مظاہرے بھی ہوئے ہیں
ترکی نے امریکہ کے ایوان نمائندگان کی ایک کمیٹی کی جانب سے پہلی جنگِ عظیم میں سلطنت عثمانیہ کے ہاتھوں آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کو نسل کُشی قرار دیے جانے کے بعد امریکہ میں اپنے سفیر کو مشاورت کے لیے واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔

ترکی کا کہنا ہے کہ وہ مانتا ہے کہ سنہ 1915 سے 1917 تک بڑی تعداد میں آرمینیائی باشندوں کو قتل کیا گیا لیکن اس عمل کو نسل کشی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ترک وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکہ میں ترکی کے سفیر’ہفتے دس دن‘ کے لیے وطن واپس آ رہے ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان لیونٹ بلمین کا کہنا تھا کہ’ہم اپنے سفیر کو مستقل بنیادوں پر واپس نہیں بلا رہے اور ہم نے انہیں مشاورت کے لیے ترکی واپس آنے کو کہا ہے‘۔

امور خارجہ کی کمیٹی کے ارکان نے آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کو نسل کُشی قرار دیے جانے کی قرارداد بدھ کو اکیس کے مقابلے میں ستائیس ووٹوں سے منظور کی تھی جس پر ترکی کے صدر عبداللہ گل نے کہا ہے کہ ماضی کی کمیٹیوں کی طرح اس کمیٹی کا یہ ناقابلِ قبول فیصلہ ترک عوام کے مزدیک کسی وقعت کا حامل نہیں۔

یہ قرارداد بش انتظامیہ کےاظہار تشویش کے باوجود منظور ہوئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اس قرارداد کی منظوری کی وجہ سے ترکی کے ساتھ تعلقات خراب ہو سکتے ہیں جو عراق اور افغانستان میں جاری امریکی کوششوں میں ایک اہم اتحادی ہے۔

بدھ کو ایوان نمائندگان میں کارروائی کے آغاز پر آرمینیا کے سب سے بڑے پادری کیریکن دوئم نے دعا کروائی۔ ان کا کہنا تھا کہ’ہم نسل کُشی کے شکار آرمینیائی باشندوں کو آج ایک بوجھل تاریخی حقیقت کے تناظر میں یاد کرتے ہیں جس کے اثرات نسل کشی کی کئی صورتوں میں آج بھی پوری دنیا محسوس کر رہی ہے‘۔

اس سے پہلے امریکہ کی وزیر خارجہ کونڈلیزا رائس نے کہا تھا کہ اگر یہ قرارداد منظور ہوگئی تو اس کے اثرات عراق اور افغانستان میں کی جانے والی امریکی کوششوں پر اثر انداز ہوں گے کیونکہ ترکی کا کردار ان کوششوں میں خاصا اہم ہے۔

اس معاملے پر خود صدر بش نے بھی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ’ہم سب کو آرمینائی باشندوں پر انیس سو پندرہ میں شروع ہونے والے قتل عام پر شدید افسوس ہے لیکن یہ قرار داد اُس تاریخی قتلِ عام کا درست ردعمل نہیں ہے اور اِس کی منظوری نیٹو کے ایک اہم اتحادی کے ساتھ ہمارے تعلقات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نقصان کا باعث ہوگی‘۔

یاد رہے کہ ماضی میں ایوان نمائندگان کی کمیٹیوں نے اِس قرارداد کو ووٹنگ کے لیے منظور تو کیا تھا لیکن ریپبلک ارکان نے اسے ہمیشہ کانگریس میں پیش ہونے سے روکے رکھا۔ لیکن اب ڈیموکریٹ اراکین کے پاس کنٹرول ہونے کی وجہ سے اس قرارداد پر ووٹنگ ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد