BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 October, 2007, 01:50 GMT 06:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فوجی کارروائی آخری حربہ ہوگا‘
ترک فوج
’سرحد پار کارروائی کا منصوبہ ہے تاہم فوری طور پر نہیں‘۔
ترکی کا کہنا ہے کہ وہ کرد علیحدگی پسندوں کی جانب سے سرحد پار حملے روکنے کے لیے فوجی کارروائی کو بطور آخری حربہ استعمال کرے گا۔

اس بات کا اعلان ترکی کے وزیرِ خارجہ علی بباکان نے کردوں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے عراق کے دورہ پر جانے سے قبل کیا ہے۔

ترک وزیرِ خارجہ اپنے اس دورے میں عراقی وزیراعظم نوری المالکی سمیت سینئر رہنماؤں سے بات چیت کریں گے۔ ترک کرد تنازعے کے حوالے سے مشرقِ وسطٰی کے دورے کے بعد ترک وزیرِ خارجہ علی بباکان کا کہنا ہے کہ’ سفارتی حل حماری ترجیح ہے لیکن فوجی کارروائی بھی یقیناً دہشتگردی کے خلاف ایک اہم حربہ ہے‘۔

اقوامِ متحدہ میں ترکی کے سفیر نے بھی بی بی سی کو بتایا ہے کہ ترکی ہمیشہ کے لیے صبر نہیں کر سکتا اور’عراق کو کچھ کرنا ہو گا‘۔انہوں نے کہا کہ’سرحدی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں اور ہم انہیں پکڑ نہیں سکتے کیونکہ وہ فوراً شمالی عراق میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اب اگر ہم اپنے علاقے میں ان دہشت گردوں کو پکڑ نہیں پا رہے تو ہمارے پاس کیا آپشن باقی رہ جاتا ہے؟‘

ادھر امریکہ نے عراق سے دوبارہ کہا ہے کہ وہ ترکی میں کارروائیاں کرنے والے گروہوں کے خلاف فوری کارروائی کرے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان ٹونی فراٹو نے ایک بیان میں کہا کہ’ ہم چاہتے ہیں کہ عراقی حکومت پی کے کے کی کارروائیاں روکنے کے لیے سرعت سے کارروائی کرے۔ ہم شمالی سرحد پر بڑی فوجی کارروائی دیکھنے کے خواہاں نہیں‘۔

اس سے قبل پیر کو ترکی کی فوج نے اس امر کی تصدیق کر دی کہ اتوار کو کرد علیحدگی پسندوں سے ہونے والی جھڑپوں کے بعد اس کے آٹھ فوجی تاحال لاپتہ ہیں۔ کرد علیحدگی پسند تنظیم ’پی کے کے‘ نے متعدد ترک فوجی پکڑنے کا دعٰوی کیا ہے اور ان میں سے سات فوجیوں کے نام بھی جاری کیے ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ عراقی حکومت پی کے کے کی کارروائیاں روکنے کے لیے سرعت سے کارروائی کرے۔ ہم شمالی سرحد پر بڑی فوجی کارروائی دیکھنے کے خواہاں نہیں
ترجمان وائٹ ہاؤس

یاد رہے کہ عراق اور ترکی کے سرحدی علاقے میں ترک فوج اور کرد علیحدگی پسندوں کے درمیان تازہ جھڑپوں میں بارہ ترک فوجیوں اور بتیس علیحدگی پسندوں کی ہلاکت کے بعد ترک حکومت نے کہا تھا کہ وہ کرد علیحدگی پسندوں پر قابو پانے کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہے۔

استنبول میں بی بی سی کی نامہ نگار سارہ رینسفورڈ کا کہنا ہے کہ خیال ہے کہ شمالی عراق میں ’پی کے کے‘ کے تقریباً تین ہزار شدت پسند سرگرم ہیں۔

ترکی استنبولیورپی یونین اور ترکی
یورپ میں ترکی کے حامی اور مخالف کون کون؟
عبداللہ گلترکی: انتخابی بحران
آئینی عدالت نے انتخابات کو کاالعدم قرار دے دیا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد