BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 November, 2007, 03:21 GMT 08:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
استنبول: عراقی سکیورٹی پر اجلاس
ترک پولیس نے امریکہ مخالف مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت انتظامات کیے ہیں
ترک پولیس نے امریکہ مخالف مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت انتظامات کیے ہیں
عراق میں سکیورٹی اور استحکام کی بحالی کے موضوع پر ترکی کے شہر استنبول میں سنیچر کو عالمی مذاکرات کا دوسرا دور منقعد ہو رہا ہے۔

مذاکرات میں عراق کے چھ پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ، اقوام متحدہ کے سفارتکار اور جی ایٹ اور عرب ممالک کے مندوبین بھی شریک ہورہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق حالیہ دنوں میں عراق اور ترکی کی سرحد پر پی کے کے کے باغیوں کی کارروائیوں سے پیدا ہونے والا تنازعہ سنیچر کو استنبول میں ہونے والے اجلاس پر متاثر ہوسکتا ہے۔

عراق میں سکیورٹی کی بحالی کے موضوع پر عالمی مذاکرات کا پہلا دور مئی میں مصر میں منعقد ہوا تھا۔ اس دور کے مذاکرات میں عراق کے تیس بلین ڈالر کے قرضے معاف کرنے کے وعدے کیے گئے تھے۔

استنبول کے لیے روانہ ہونے سے قبل عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا کہ اس بار ان کا ملک چاہے گا کہ وعدوں کے علاوہ کچھ ٹھوس اقدمات اٹھائے جائیں۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار جِم میور کا کہنا ہے کہ عراقی وفد اس بات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کرے گا کہ حالیہ دنوں میں عراق میں سکیورٹی کی صورتحال مسلسل بہتر ہوئی ہے جسے جاری رکھنے کے لیے ملازمت کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

مئی میں ہونے والے مذاکرات کی طرح اس بار بھی عراق کے پڑوسیوں اور دیگر طاقتوں کو عراق میں استحکام کی بحالی کے لیے اقدامات میں ملوث کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

سنیچر کے اجلاس میں دنیا کی نظریں اس بات پر بھی ہونگیں کہ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس ایران اور شام کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ کیسے پیش آتی ہیں۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایک مثبت ملاقات سے عراق کے حالات پر بہتر اثر پڑے گا۔

استنبول میں سکیورٹی سخت کردی گئی ہے کیونکہ کونڈولیزا رائس کی ترکی میں موجودگی کے خلاف وہاں کئی تنظیمیں مظاہرے کر رہی ہیں۔

جمعہ کے روز مظاہرین کو ’پی کے کے‘ کے باغیوں کی یونیفارم میں ملبوس دیکھا گیا اور ان کے ہاتھ میں ایک پلے کارڈ تھا جس پر لکھا تھا: ’دہشت گرد رائس، واپس جاؤ۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد