BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 October, 2007, 15:01 GMT 20:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے‘
ترک فوج
ترک عراق سرحد پر ترکی فوجی پہرہ دے رہے ہیں
ترکی کے صدر عبداللہ گل نے سخت بیان دیتے کہا ہے کہ وہ شمالی عراق میں مقیم کرد تنظیم کی پرتشدد کارروائیوں کا بھر پور جواب دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے اور کرد حملوں کو روکنے کے لیے سخت کارروائی کرنا لازمی ہے۔ عبداللہ گل نے عراقی وفد کے ملک میں آنے سے پہلے یہ بیان دیا جو کرد حملوں کو روکنے میں آخری کوشش کے طور پر جمعرات کو انقرہ پہنچے والا ہے۔

عراق کا ایک اعلیٰ سطحی وفد انقرہ میں ترک حکام سے ملاقات کر رہا ہے جس میں شمالی عراق میں کرد جنگوؤں کے ترک فوجوں پر حملے روکنے سے متعلق بات چیت کی جائے گی۔

ہمارا کوئی قصور نہیں
 پہلے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم اس حملے کا حصہ نہیں بلکہ ہم ترکی کو درپیش کرد مسئلے سے پیدا شدہ حالات سے نکالنے میں مدد کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اسکا براہ راست اثر ہمارے ملک پر بھی پڑ رہا ہے۔ اس مسئلے کا حل ترکی کے ہاتھ میں ہے۔ بہتر یہی ہے کہ وہ اس مسئلے کو سمجھے اور اسکو مناسب طریقے سے حل کرے
عراقی انٹیلیجنس کے سربراہ مسراو بسانی

دوسری طرف ترکی کے وزیرِ خارجہ علی بباجان نے کہا کہ عراقی وفد کو اس بحران پر قابو پانے کا کوئی ٹھوس منصوبہ پیش کرنا ہوگا۔ مگر شمالی عراق میں کرد علاقائی حکومت کے سلامتی اور انٹیلیجنس کے سربراہ مسراوبسانی نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ بحران کا حل ترکی کے ہاتھ میں ہے۔

’پہلے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم اس حملے کا حصہ نہیں بلکہ ہم ترکی کو درپیش کرد مسئلے سے پیدا شدہ حالات سے نکالنے میں مدد کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اسکا براہ راست اثر ہمارے ملک پر بھی پڑ رہا ہے۔ اس مسئلے کا حل ترکی کے ہاتھ میں ہے۔ بہتر یہی ہے کہ وہ اس مسئلے کو سمجھے اور اسکو مناسب طریقے سے حل کرے۔‘

مگر ترکی عراق سے ایک بات کی یقین دہانی چاہتا ہے کہ وہ شمالی عراق میں پی کے کے کے اڈے بند کر کے اسکے سنیئر رہنماؤں کو ترکی کے حوالے کردے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ترکی عراقیوں کی زندگی مشکل بنا سکتا ہے جو ترکی سے ملنے والی بجلی اور خوراک پر انحصار کرتے ہیں۔

عبداللہ گل
’کرد تنظیم کی پرتشدد کارروائیوں کا بھر پور جواب دیں گے‘

اس سے قبل ترکی کے وزیرِ خارجہ علی بباجان نے کہا تھا کہ وہ کرد علیحدگی پسندوں کی جانب سے سرحد پار حملے روکنے کے لیے فوجی کارروائی کو بطور آخری حربہ استعمال کرے گا۔

اقوامِ متحدہ میں ترکی کے سفیر نے بھی بی بی سی کو بتایا تھا کہ ترکی ہمیشہ کے لیے صبر نہیں کر سکتا اور’عراق کو کچھ کرنا ہو گا‘۔انہوں نے کہا کہ’سرحدی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں اور ہم انہیں پکڑ نہیں سکتے کیونکہ وہ فوراً شمالی عراق میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اب اگر ہم اپنے علاقے میں ان دہشت گردوں کو پکڑ نہیں پا رہے تو ہمارے پاس کیا آپشن باقی رہ جاتا ہے؟‘

یاد رہے کہ عراق اور ترکی کے سرحدی علاقے میں ترک فوج اور کرد علیحدگی پسندوں کے درمیان تازہ جھڑپوں میں بارہ ترک فوجیوں اور بتیس علیحدگی پسندوں کی ہلاکت کے بعد ترک حکومت نے کہا تھا کہ وہ کرد علیحدگی پسندوں پر قابو پانے کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہے۔

استنبول میں بی بی سی کی نامہ نگار سارہ رینسفورڈ کا کہنا ہے کہ خیال ہے کہ شمالی عراق میں ’پی کے کے‘ کے تقریباً تین ہزار شدت پسند سرگرم ہیں۔

ترکی استنبولیورپی یونین اور ترکی
یورپ میں ترکی کے حامی اور مخالف کون کون؟
عبداللہ گلترکی: انتخابی بحران
آئینی عدالت نے انتخابات کو کاالعدم قرار دے دیا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد