BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 October, 2007, 14:29 GMT 19:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اردگان یورپی یونین ممالک پر برہم
طیب اردگان
طیب اردگان پانچ نومبر کو امریکی صدر بش سے بھی ملاقات کر رہے ہیں
ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان نے یورپی یونین کے ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کردستان ورکرز پارٹی یا ’پی کے کے‘ کے کارکنوں سے نمٹنے کے لیے قابلِ ذکر کوشش نہیں کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین میں شامل ممالک نہ تو ’پی کے کے‘ کے اراکین کو گرفتار کر رہے ہیں اور نہ ہی انہیں ملک بدر کیا جا رہا ہے۔

طیب اردگان نے یہ بات ’پی کے کے‘ کے علیحدگی پسندوں کی جانب سے ترک علاقے میں کی جانے والی کارروائیوں پر قابو پانے کے حوالے سے عراق اور ترکی کے بے نتیجہ مذاکرت کے اختتام کے بعد کہی۔

ترکی پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ وہ اب مزید کوئی حملہ برداشت نہیں کرے گا اور اس نے شمالی عراقی سرحد پر فوجیں بھی جمع کرنا شروع کر دی ہیں۔

رجب طیب اردگان نے ’پی کے کے‘ کے حوالے سے یورپی یونین کے ممالک کے خلوص پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ’ کسی یورپی ملک نے اب تک پی کے کے کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے باوجود اس کے ممبران کو ترکی کے حوالے نہیں کیا ہے‘۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق طیب اردگان نے کسی ملک کا نام تو نہیں لیا تاہم آسٹریا کی جانب سے ’پی کے کے‘ کے ایک سینئر ممبر کوگرفتار نہ کرنے کے واقعے کی جانب اشارہ ضرور کیا۔

ترکی شمالی عراقی سرحد پر فوج جمع کر رہا ہے

یاد رہے کہ عراق اور ترکی کے درمیان کرد تنازعے کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات جمعہ کو بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئے تھے۔ بغداد میں بی بی سی کے نمائندے جم میور کا کہنا ہے کہ بات چیت میں شامل عراقی وفد کا کہنا ہے ان کی جانب سے دی جانے والی تجاویز قابل عمل اور حقیقت پسندانہ ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق ان تجاویز میں سرحد کی نگرانی کے لیے کثیر القومی فوج کی تعیناتی، عراقی سرحدی چوکیوں پر دوبارہ تعیناتی اور پی کے کے کے مالی ذرائع پر پابندی لگانے جیسی باتیں شامل ہیں۔

ادھر ترکی کا کہنا ہے کہ عراقی تجاویز پر عمل میں وقت لگ سکتا ہے۔ ترکی چاہتا ہے کہ شمالی عراق کی پہاڑیوں میں قائم پی کے کے کیمپ فوری طور پر بند کیے جائیں اور ان کی قیادت کو ترکی کے حوالے کیا جائے۔

ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان اس حوالے سے پانچ نومبر کو امریکی صدر جارج بش سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں اور ایک سینیئر ترک جنرل کے مطابق عراقی علاقے میں ترک فوج کی کارروائی اس ملاقات سے قبل ممکن نہیں ۔

کردوں کی حالت زار
صلاح الدین ایوبی کی قوم چومکھی جبر کا شکار
پی کے کےترک کرد تنازعہ
’صبر وتحمل کی پالیسی اب بدل رہی ہے‘
عبداللہ گلترکی: انتخابی بحران
آئینی عدالت نے انتخابات کو کاالعدم قرار دے دیا
ترکی استنبولیورپی یونین اور ترکی
یورپ میں ترکی کے حامی اور مخالف کون کون؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد