کرد: چومکھی جبر کا شکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تین کرورڑ پچھتر لاکھ کردوں کی اکثریت ترکی،عراق، شام اور ایران میں پھیلی ہوئی ہے۔ یہ قوم ایران سے شام تک پھیلے ہوئے اس علاقہ میں آباد ہے جو کردوں میں کردستان کے نام سے مشہور ہے جہاں تین سو سال قبل مسیح سے کرد آباد ہیں۔ ساتویں صدی میں کرد مشرف بہ اسلام ہوئے تھے اور انہی میں سے صلاح الدین ایوبی ابھرے تھے جنہوں نے صلیبی جنگوں میں اپنی فتوحات سے بڑا نام پیدا کیا ۔ اسی مسلم فاتح کی یہ قوم آج چومکھی جبر و تشدد کا شکار ہے۔ پہلی عالم گیر جنگ سے پہلے کرد اس علاقہ میں سلطنت عثمانیہ کے تحت خانہ بدوشوں کی زندگی گذارتے تھے۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ سلطنت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد مشرق وسطی میں کئی نئی آزاد مملکتیں وجود میں آئیں لیکن آزاد خودمختار مملکت کے بارے میں کردوں کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا حالانکہ انیس سو بیس کے سیورے کے معاہدہ میں جس کے تحت عراق شام اور کویت کی آزاد مملکتیں وجود میں آئیں کردوں کی ایک آزاد مملکت کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن ترکی میں مصطفی کمال اتاترک کے بر سراقتدار آنے کے بعد ترکی نے اور اس کے ساتھ ایران اور عراق نے کردوں کی آزاد مملکت تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ گو شمالی عراق میں کردوں کی آبادی ساٹھ لاکھ کے لگ بھگ ہے لیکن سب سے زیادہ تعداد ان کی ترکی میں ہے جہاں یہ ایک کڑوڑ اسی لاکھ کے قریب بتائے جاتے ہیں۔ شام میں ان کی تعداد اٹھائیس لاکھ ہے اور ایران میں اڑتالیس لاکھ کے قریب ہیں۔ عراق میں گو صدام حسین کے زوال کے بعد کردوں کو نئے آئین کے تحت خودمختاری حاصل ہو گئی ہے لیکن دوسرے تین ملکوں میں انہیں اقلیتوں کی حیثیت حاصل ہے اور کردوں کو شکایت ہے کہ انہیں سیاسی اور ثقافتی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کردوں کی تاریخ ایران اور عراق میں بغاوتوں سے عبارت ہے۔ ترکی میں کردوں نے انیس سو پچیس میں شیخ سعید کی قیادت میں بغاوت کی تھی جس کے بعد ترکی کی حکومت نے کردوں کے خلاف نہایت سخت گیر پالیسی اختیار کی اور ان کی زبان اور ان کا تشخص ختم کر کے انہیں ُُ پہاڑی ترک قرار دے کر انہیں ترک معاشرہ میں ضم کرنے کی مہم شروع کی جس کے خلاف کردوں نے شدید مخالفت کی۔
مارکس نواز کرد تنظیم پی کے کے جنوب مشرقی ترکی میں خود مختاری کے لئے شمالی عراق کی سرحد پر انیس سو چوراسی سے چھاپہ مار جنگ لڑ رہی ہے۔ انیس سو نوے میں ترکی کے زبردست دباؤ کی وجہ سے پی کے کے نے اپنے اڈے شمالی عراق میں منتقل کر دیئے تھے۔ انیس سو ننانوے میں کردوں کے رہنما عبداللہ اوجلان کی گرفتاری کے بعد پی کے کے کی سرگرمیاں ماند پڑ گئی تھیں۔ لیکن اب پھر ایک بار انہوں نے شمالی عراق سے اپنی کاروائیاں شروع کر دی ہیں۔ ایران میں کردوں کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ سترویں صدی سے شروع ہوا تھا جب شاہ عباس نے کردوں کو بڑے پیمانہ پر زبردستی خراسان میں منتقل کردیا۔ پھر انیس سو چھیالیس میں قاضی محمد کی قیادت میں بغاوت ہوئی اور کردوں نے مہا آباد جمہوریہ کے نام سے ایک علیحدہ مملکت قیام کی جو زیادہ عرصہ نہ چل سکی۔ قاضی محمد کو آخر کار کھلے عام پھانسی دی گئی۔ رضا شاہ پہلوی کے دور میں کردوں کی زبان پر پابندی عائد کی گئی۔ اور سن اناسی کے اسلامی انقلاب کے بعد آیت اللہ خمینی نے کردوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا اور بڑے پیمانہ پر کرد علاقوں میں فوجی کارروائی کی گئی۔ ادھر شمالی عراق میں کردوں نے سن انیس سو ساٹھ سے انیس سو پچھتر تک مصطفیٰ برزانی کی قیادت میں بغاوت کی جس کے نتیجہ میں انہیں خود مختاری حاصل ہوئی لیکن انیس سو اکانوے میں کردوں کی بغاوت کے بعد صدام حسین کی حکومت نے اس علاقہ پر دوبارہ قبضہ کر لیا اور کردوں پر سخت مظالم توڑے۔ کردوں میں یزدانی اور یزیدی عقائد کے کئی فرقے ہیں لیکن اکثریت ان کی سنی شافعی عقیدے سے تعلق رکھتی ہے۔ کردستان کے علاقہ کے باہر پوری دنیا میں ایک کڑوڑ سے زیادہ کرد پھیلے ہوئے ہیں ان میں زیادہ تر وہ ہیں جنہوں نے ترکی، عراق اور ایران میں ظلم و ستم سے فرار ہو کر پناہ لی ہے۔ | اسی بارے میں عراقی سرحد: بارہ ترک فوجی ہلاک21 October, 2007 | آس پاس ’صبر وتحمل کی پالیسی اب بدل رہی ہے‘22 October, 2007 | آس پاس باغیانہ سرگرمیاں ناقابلِ قبول:عراق23 October, 2007 | آس پاس ’فوجی کارروائی آخری حربہ ہوگا‘23 October, 2007 | آس پاس ایرانی، ترک افواج عراقی سرحد پر جمع06 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||