BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باغیانہ سرگرمیاں ناقابلِ قبول:عراق
 کرد علیحدگی پسند(فائل فوٹو)
کسی دہشتگرد تنظیم سے جنگ بندی ممکن نہیں:ترک وزیرِ خارجہ
عراق کے وزیراعظم نوری المالکی کا کہنا ہے کہ کرد علیحدگی پسند تنظیم ’پی کے کے‘ ایک دہشتگرد تنظیم ہے اور اسے عراقی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

وزیراعظم نوری المالکی نے بغداد میں ترک وزیرِ خارجہ علی بباجان سے ملاقات کے بعد کہا کہ وہ کردستان ورکرز پارٹی کی’عراق اور ترکی کے لیے خطرہ بننے والی دہشتگرد سرگرمیوں پر قابو پانے کے لیے کام کریں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ’ پی کے کے ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور ہمیں ان کے دفاتر بند کرنے کا فیصلہ کرنا ہوگا اور انہیں عراقی سرزمین پر کام کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ عراقی سرزمین سے باغیانہ سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں۔

اس سے قبل ترک وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ترکی اس مسئلے کا سفارتی حل چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست، مذاکرات، سفارتکاری، ثقافت اور معیشت ہی وہ ذرائع ہیں جو اس بحران سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے ’پی کے کے‘ کیساتھ جنگ بندی کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا کہ’ کسی دہشتگرد تنظیم سے جنگ بندی کا معاہدہ ممکن نہیں‘۔

ترک وزیراعظم رجب طیب اردگان نے بھی لندن میں اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ ترکی عراق کو برآمد کی جانے والی اشیاء پر پابندی لگا سکتا ہے۔ انہوں نے اشیاء کی نشاندہی تو نہیں کی تاہم اس بات کا ذکر کیا کہ ترکی عراق کو پانی، ایندھن اور خوراک کی فراہمی میں مدد کرتا ہے۔

ادھر ترکی میں قریباً دس ہزار افراد نے منگل کو ان دو فوجیوں کے جنازوں میں شرکت کی جو اتوار کو کرد علیحدگی پسندوں سے جھڑپ میں مارے گئے تھے جبکہ خبر رساں ادارے اناطولیہ کے مطابق ترکی کے مغربی شہر ایدن میں پچاس ہزار افراد نے ان ہلاکتوں کے خلاف جلوس بھی نکالا۔

 شمالی عراق کے کردوں کے ’پی کے کے‘ سے روابط رہے ہیں اور انہی رابطوں کو استعمال کرتے ہوئے علیحدگی پسند کردوں کو مزید حملوں سے باز رکھنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
جنرل پیٹریس

دریں اثناء بی بی سی عالمی سروس سے بات کرتے ہوئے عراق میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل پیٹریس نے کہا ہے کہ شمالی عراق میں ترک عراق سرحد ایک تہرا سرحدی علاقہ ہے جہاں ترک، عراقی اور ایرانی سرحدیں ملتی ہیں اور یہ کسی قسم کی فوجی کارروائی کے لحاظ سے ایک مشکل علاقہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شمالی عراق کے کردوں کے ’پی کے کے‘ سے روابط رہے ہیں اور انہی رابطوں کو استعمال کرتے ہوئے علیحدگی پسند کردوں کو مزید حملوں سے باز رکھنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔

جنرل پیٹریس نے کہا کہ اسی طریقے سے’ انہیں(پی کے کے) کو کگر سے پیچھے ہٹایا جا سکتا ہے اور کہا جا سکتا ہے کہ وہ مشکل حالات کو مزید مشکلبنانے سے باز رہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اس وقت’ بہت مشکل حالت‘ میں ہے کیونکہ ایک جانب نیٹو اتحادی ترکی ہے تو دوسری جانب مزاحمت کاروں کے خلاف اس کی اتحادی عراقی حکومت۔

یاد رہے کہ پیر کو وائٹ ہاؤس کے ترجمان ٹونی فراٹو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کہ’ ہم چاہتے ہیں کہ عراقی حکومت پی کے کے کی کارروائیاں روکنے کے لیے سرعت سے کارروائی کرے۔ ہم شمالی سرحد پر بڑی فوجی کارروائی دیکھنے کے خواہاں نہیں‘۔

ترکی استنبولیورپی یونین اور ترکی
یورپ میں ترکی کے حامی اور مخالف کون کون؟
عبداللہ گلترکی: انتخابی بحران
آئینی عدالت نے انتخابات کو کاالعدم قرار دے دیا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد