BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 December, 2007, 23:32 GMT 04:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ترک فوج کا کردوں پر بڑا حملہ
ترک فوجی
حالیہ ہفتوں میں علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائی کے دوران کم از کم پچاس ترک فوجی ہلاک ہو چکے ہیں
ترک فوج نے علیحدگی پسند کردوں کے ایک گروہ یعنی کردستان ورکرز پارٹی کے ارکان کے خلاف عراق کی سر زمین پر ایک بڑی کارروائی کی ہے۔

ترک فوج کا دعویٰ ہے کہ شمالی عراق کے اندر اس کارروائی سے کم از کم ساٹھ مبینہ عسکریت پسند کرد باغی ہلاک ہوئے ہیں۔ گزشتہ جمعے کو ترک وزیر اعظم طیب رجب اردوگان نے ترک فوج کو عراق کی سر زمین میں گھس کر کرد باغیوں کے خلاف کارروائی کا اختیار دے دیا تھا۔

ترک فوج کی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے ایک بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کرد علیحدگی پسندوں کے خلاف کس نوعیت کا فوجی آپریشن ہوا نہ ہی یہ ذکر کیا گیا ہے کہ اس آپریشن کے لیے ترک فوج نے اپنی سرحدی حدود میں رہتے ہوئے کارروائی کی یا انہیں سرحد پار عراق کی حدود میں داخل ہونا پڑا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ انٹیلجینس کے ذریعے علیحدگی پسند کرد تنظیم کردستان ورکرز پارٹی کے مسلح کارکنوں کی نشاندہی کے بعد ان پر بھاری فائرنگ کی گئی۔ ترک فوج کا بڑا آپریشن حکومت کی جانب سے اس اعلان کے بعد ہوا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ فوج کو کرد علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائیوں کی کھلی اجازت دی دی گئی ہے۔

ترک وزیراعظم طیپ اردوگان نے کرد علیحدگی پسندوں کے خلاف اس تازہ آپریشن کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترک فوج اس معاملے میں پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے۔

ترک عراق سرحد
ترک فوج نے یہ نہیں بتایا کہ کارروائی کس طرح کی گئی
’ترک مسلح افواج جو اس مسئلے کے حل کے لیے ذمہ دار ہیں، پوری صلاحیت رکھتی ہیں کہ انہیں کن حالات سے کیسے نمٹنا ہے۔‘

طیب اردوگان نے ترک حزبِ مخالف کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کیا ہے کہ حکومت نے کرد باغیوں کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کرنے میں تاخیر کی ہے۔

ترک وزیرِ اعظم نے کہا کہ ’حزبِ اختلاف اتحاد و اتفاق کی اس گھڑی میں رکاوٹیں کھڑی کرنے میں مصروف ہے۔ یہ رویہ انتہائی غلط ہے۔ آپ کو اچھی طرح علم ہے کہ ہم اس مرحلے میں ذرا بھی نہیں رکے اور ہماری یہی کوشش رہی ہے کہ پہلے اس مسئلے کے حل کے لیے سیاسی طریقۂ کار اختیار کیا جائے۔‘

عراق کے شمالی پہاڑی علاقوں میں تین ہزار کے قریب کرد علیحدگی پسندوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ امریکہ اور عراق کا اصرار ہے کہ ترکی ایسی کسی بھی کارروائی سے باز رہے جس سے عراق کے قدرے پرامن کرد خطے میں بدامنی پھیلنے کا اندیشہ ہو۔ تاہم ترکی میں عوامی سطح پر کرد علیحدگی پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کو بھرپور حمایت حاصل ہے۔ حالیہ ہفتوں میں علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائی کے دوران کم از کم پچاس ترک فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد