 | | | لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے محبوب رہنماء کی برسی ہر سال منایا کرینگے |
عراق میں سابق صدر صدام حسین کی پہلی برسی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ ان کے آبائی علاقے تکریت میں بچوں سمیت سینکڑوں افراد فاتحہ خوانی کے لیے ان کے مزار پر آتے رہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق صدام حسین کی برسی کے موقع پر ان کے مزار پر آنے والوں میں زیادہ تعداد ان کے قبیلے اور سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کی تھی۔ اس موقع پر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ صدام حسین کو انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں گزشتہ برس تیس دسمبر کے روز بغداد میں پھانسی دے دی گئی تھی۔ انہیں اپنے بیٹوں اودے اور قوسے کے پہلو میں دفن کیا گیا تھا۔ اودے اور قوسے سال دو ہزار تین میں امریکی فوج کے ساتھ فائرنگ کے مبینہ تبادلے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ صدام حسین کے آخری لمحات کی ویڈیو فوٹیج سامنے آئی تھی، جس میں تختۂ دار پر کھڑے صدام حسین پر حاضرین میں سے کچھ لوگوں کو شیعہ رہنماء مقتدہ الصدر کا نام لے کر فقرے کستے دکھایا گیا تھا۔
 | | | صدام حسین کے آخری لمحات کی ویڈیو فوٹیج سامنے آئی تھی |
اس منظر نے عراق میں سنی مسلک سے تعلق رکھنے والوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑا دی تھی۔ نتیجاً تشدد کے مختلف واقعات میں اسی افراد ہلاک ہوئے تھے۔ صدام حسین کے مزار پر آئے بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے محبوب رہنماء کی برسی ہر سال منایا کرینگے، جبکہ مقتدہ الصدر کے ایک خامی حیدر الجبیری کا کہنا تھا کہ یہ انصاف اور خوشی کا دن ہے۔ |