افغانستان: امدادی کارروائیاں معطل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بین الاقوامی فلاحی تنظیم ’میدسیں ساں فغانتیئے‘(ایم ایس ایف) نے افغانستان میں اپنے پانچ کارکنوں کی ہلاکت کے بعد وہاں امدادی کارروائیاں روک دی ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں دو افغان شہری بھی شامل تھے جو بطور ڈرائیور اور مترجم کام کر رہے تھے۔ حملے کا شکار ہونے والی گاڑی میں موجود مزید افغان شہری محفوظ رہے۔ ہلاک ہونے والے دیگر امدادی کارکنوں میں سے ایک کا تعلق بیلجیئم جبکہ باقی دو کا جرمنی اور ناروے تھا۔ افغانستان کی سابق حکمران تنظیم طالبان نے بدھ کے روز ہونے والے اس حملے کا اعتراف کیا ہے جس میں یہ کارکن ہلاک ہوئے۔ نامہ نگاروں نے اس حملے کو سن سو ہزار ایک میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سنگین ترین کارروائی قرار دیا۔ ایم ایس ایف کی ایک ترجمان نے کہا کہ اب ان کی ترجیح ہلاکتوں سے متاثر ہونے والے افراد کا خیال رکھنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق صوبہ بدغیس کے گاؤں خیر خانہ میں امدادی کارکنوں کی گاڑی پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا۔ حملے کا نشانہ بننے والے تمام افراد ’میدسیں ساں فغانتیئے‘ کے کارکن تھے اور گاؤں میں ایک شفاخانہ قائم کر رہے تھے۔ طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ تنظیم کے ایک ترجمان نے پشاور میں کہا ہے کہ طالبان سے تعلق رکھنے والے مسلح جنگجوؤں نے، ان کے بقول، اقوام متحدہ کی گاڑی کو نشانہ بنایا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||