BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 August, 2008, 11:06 GMT 16:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانستان: طالبان مزاحمت پرتشویش
طالبان
افغانستان میں طالبان کی فوج اور حکومت دونوں چلتی ہے
طالبان کو اقتدار سے الگ ہوئے سات سال ہوچکے ہیں لیکن اس کے باوجود جس طرح وہ ہمت سے ڈٹے ہوئے مقابلہ کر ر ہے ہیں اس سے واشنگٹن اور نیٹو ممالک کے دارالحکومتوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

اتحادی فوج اب از سر نو اس بات پر غور کرنے پر مجبور ہے کہ آخرکمزور طالبان دنیا کی ‏عظیم ترین فوج کو ان کے مقصد کے حصول سے کیسے دور کر رکھا ہے۔

حالیہ دنوں میں طالبان نے اتحادی فوجیوں کا جس طرح نقصان پہنچایا ہے اس سے امریکی کمانڈروں اور رہنماؤں کی توجہ اب افغان جنگ پر زیادہ ہے اور انہیں اب عراق سے افغانستان کی جنگ زیادہ خطرناک لگنے لگی ہے۔

جنگ کا مقصد بھی غیر واضح ہوچکا ہے کیونکہ طالبان لیڈر کہتے ہیں کہ انہیں فی الوقت علاقے پر کنٹرول یا بیرونی فوجوں کو شکشت دینا نہیں بلکہ وہ اپنے علاقے میں بیرونی فوج کو بے بس دیکھنا چاہتے ہے۔

فوجی افسران کا کہنا ہے کہ طالبان کی ثابت قدمی اس بات کا ثبوت ہے کہ اقتدار سے سات سال کی دوری کے باوجود ان کی لیڈر شپ کس قدر متحد ہے۔

ملا عمر کی متوازی حکومت
 طالبان کے رہنما ملا عمر کے بارے میں افغان اور امریکی افسران کا خیال ہے کہ وہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہیں اور وہ ایک ایسی متوازی حکومت بھی چلاتے ہیں جس کی اپنی فوج اور مذہبی و ثقافتی کونسلز بھی ہیں۔ طالبان کے مطابق وہ اسی طرح افغانستان کے ہر صوبے میں اب بھی اپنے کمانڈر اور افسران مقرر کرتے ہیں جیسے وہ اقتدار کے دوران کیا کرتے تھے۔
امریکی افسران

طالبان کے رہنما ملا عمر کے بارے میں افغان اور امریکی افسران کا خیال ہے کہ وہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہیں اور وہ ایک ایسی متوازی حکومت بھی چلاتے ہیں جس کی اپنی فوج اور مذہبی و ثقافتی کونسلز بھی ہیں۔ طالبان کے مطابق وہ اسی طرح افغانستان کے ہر صوبے میں اب بھی اپنے کمانڈرز اور افسران مقرر رکرتے ہیں جیسے وہ اقتدار کے دوران کیا کرتے تھے۔

طالبان کے ایک ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ملاّ عمر کی دس ارکان پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کی کونسل ہے جس کے ذریعے وہ اپنا پورا نظام چلاتے ہیں۔

طالبان حکومت کے ایک سابق افسر وحید نزہت کے مطابق ملاّ برادر، ایک سینئر کمانڈر، ملاّ عمر کے نائب ہیں جو اپنے حاکم کے پیغامات کو دوسروں تک پہنچاتے اور تمام فوجی فیصلے کرتے ہیں۔

وحید نزہت کے مطابق طالبان کا ایک اپنا ’الاسومود‘ نامی جریدہ بھی ہے جس میں عربی زبان میں طالبان کی لیڈر شپ کے بارے میں تمام تفصیلات موجود ہیں۔

نیٹو فوج کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ ڈی میکرین کا کہنا ہے کہ طالبان سیاسی طور پر تو متحد ہیں لیکن ان کی کارروائیاں اور فوجی حکمت عملی میں ربط بہت اچھا نہیں ہے۔

ایک دوسرے نیٹو فوجی افسر کا کہنا ہے کہ طالبان کسی علاقے پر کنٹرول یا نیٹو فوج کو شکست نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ چندر برسوں میں بہت سے طالبان کمانڈر ہلاک بھی ہوچکے ہیں جس سے وہ، خاص طور پر جنوبی افغانستان میں، کمزور بھی پڑے ہیں۔

طالبان نیٹو علاقوں پر قبضہ نہیں بلکہ نیٹو فوج کی تذلیل کرنا چاہتے ہیں

وحید نزہت کے مطابق ملاّ عمر کی اعلی کونسل کے تین ارکان گزشتہ برس ہلاک کیے گئے تھے اور بعض کو حراست میں لیا گيا تھا۔ حالیہ برسوں میں ملٹری کونسل کے انتیس ارکان میں سے چھ ہلاک ہوچکے ہیں۔ تاہم اس زبردست نقصان کے باوجود طالبان اس بات کا اظہار کرتے رہتے ہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اس جنگ سے ایک دن تھک کر افغانستان چھوڑ کر چلے جائیں گے اور وہ دوبارہ اقتدار پر قابض ہوں گے۔

طالبان کا کہنا ہے کہ انہیں ہتھیاروں کی کچھ زیادہ ضرورت نہیں ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’اب طالبان دشمن کے خلاف جنگ میں مارو اور فرار ہو نے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں، اس کے لیے ہمیں اتنے زیادہ ہتھیار یا پیسے کی ضرورت نہیں ہے جتنا بیرونی فوجیں خرچ کر رہی ہیں۔‘

مغرب کی اتحادی فوج کے افسران کا کہنا ہے کہ طالبان کو پیسوں کے لیے وسائل کی کمی نہیں ہے اور افیم کی تجارت، تاجروں، مسجدوں، جہادی تنظیموں، علاقے کے ہمدردوں اور عرب ممالک سے انہیں پیسہ ملتا رہتا ہے۔

طالبان چونکہ ایک مذہبی گروپ ہیں اس لیے وہ اس کا با آسانی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ مذہبی اعتبار سے وہ ان تمام کمانڈروں اور لوگوں کو حکم دے سکتے ہیں جو مختلف علاقوں میں بر سر پیکار ہیں۔ مذہبی احکامات کا سہارا لے کر وہ اپنے قبائیلی ساتھیوں پر بھی کئی بار ظلم کرتے ہیں اور جاسوسی کا الزام لگا کر کئی لوگوں کو بے رحمی سے قتل بھی کیا جا چکا ہے۔ انٹرنیشنل کرائسس گروپ کا کہنا ہے کہ ’عوام پر اس طرح کے حملوں کے اضافے کا متاثرین پر زبردست اثر پڑا ہے۔‘

اسّی کے عشرے کا انداز
 افغان اور نیٹو حکام کا کہنا ہے کہ طالبان آج کل بالکل ویسی ہی کارروائیاں کر رہے ہیں جیسی وہ اسّی کے عشرے میں سوویت یونین کی فوجیوں کے خلاف پاکستان کی سرزمین سے کر رہے تھے
افغان و نیٹو حکام

دو ہزار ایک میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد طالبان اور القاعدہ نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پناہ لی تھی۔ تبھی سے یہ علاقے بیرونی فوج کے خلاف لڑائی کا گڑھ ہیں۔

جنرل میکرین کا کہنا ہے کہ افغان سرحد پر پاکستان کے قبائلی علاقے جنگجوؤں کی بھرتی کے لیے اہم اڈے ہیں۔ پاکستانی طالبان خود اپنے ہی ملک کے استحکام اور سکیورٹی کے لیے ایک خطرہ بن چکے ہیں۔

طالبان کا کہتے ہیں کہ جہاد سرحدوں کو تسلیم نہیں کرتا ہے اور یہی بات سرحد کے دونوں طرف کے قبائلیوں کو متحد کرتی ہے جن کی زبان اور تہذیب ایک ہے اور وہ علاقے میں اسلامی مملکت کے قیام کے حق میں بھی ہیں۔

لیکن طالبان اپنے پاکستانی ساتھیوں کو بچانے کے لیے ہمیشہ سے یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ سب کے سب افغانی ہیں اور ان کے مجاہدین بیرونی نہیں بلکہ مقامی ہیں۔ طالبان کے ترمجان ذبیح اللہ مجاہد اور قاری یوسف احمدی اپنی قیام گاہ کے بارے میں کبھی نہیں بتاتے ہیں۔ وہ اکثر اپنے پاکستانی بھائیوں کے ساتھ ہمدردی جتاتے ہیں لیکن اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ ان کی کوئی مشترکہ حکمت عملی ہے۔

لیکن افغان حکومت طالبان کے ان دعوں کو مسترد کرتی رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ طالبان سرحد کے دونوں جانب پاکستانی انٹیلی جنس سروسز کی نگرانی میں کام کرتے ہیں تاکہ وہ افغانستان کو غیر مستحکم کر سکیں۔

افغان اور نیٹو حکام کا کہنا ہے کہ طالبان آج کل بالکل ویسی ہی کارروائیاں کر رہے ہیں جیسی وہ اسّی کے عشرے میں سوویت یونین کی فوجیوں کے خلاف پاکستان کی سرزمین سے کر رہے تھے۔

خود حامد کرزئی کی حکومت کے بعض ارکان، جو مجاہد کی حیثیت سے لڑ بھی چکے ہیں کہتے ہیں کہ بعض طالبان اب تک رابطے کے لیے وہی نظام استمعال کرتے ہیں جو بیس برس پہلے کیا کرتے تھے۔

طالبان کے ترجمان افغان حکومت میں شامل ہونے یا حکومت سے مذاکرات کرنے کی تجویز کو بھی مسترد کر چکے ہیں تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ بہت سے طالبان بات چیت کے لیے آگے آئے ہیں۔

طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی کا کہنا ہے کہ’ہم حملہ آوروں کے خلاف لڑائی کر رہے ہیں اور اب وہ ذلیل ہونے کے در پر ہیں، یہی ہماری جنگ کا مقصد بھی ہے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد