سولہ افغان پولیس اہلکار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں وزارتِ داخلہ کے حکام کے مطابق ملک کے جنوبی حصہ میں پولیس کی ایک چوکی پر طالبان کے حملے میں کم از کم سولہ پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ حملہ ہلمند صوبے کے میوند ضلع میں ہفتے کے روز کیا گیا۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ طالبان افغان پولیس کو نشانہ بنا رہے ہیں کیونکہ افغان پولیس افغان فوج اور نیٹو افواج کے مقابلے میں کم تربیت یافتہ ہیں اور ان کے پاس ہتھیار بھی نسبتاً کم ہیں۔ طالبان نے جس پولیس کو نشانہ بنایا ہے وہ افغانستان کی بڑی شاہراہ ہائی وے ون پر واقعہ ہے اور اس پر گزشتہ سال میں کئی مرتبہ نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس تازو ترین واقعہ کی تفتیش کر رہے ہیں اور انہوں نے حملہ آووروں کی تلاش بھی شروع کر دی ہے۔ وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے امریکی خبرساں ادارے اے پی کو بتایا کہ گزشتہ سال مراچ سے اب تک ساڑھے آٹھ سو پولیس اہلکار طالبان کے حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکام نے مزید کہا کہ ہلمند صوبے میں موسی قعلہ کے علاقے میں پیر کے روز ہونے والے ایک بم دھماکے دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔ نامہ نگاروں کا مزید کہنا ہے کہ سن دو ہزار ایک میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد سے اب تک امریکہ میں تشدد کے سب سے زیادہ واقعات ہوئے ہیں۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||