افغانستان: رات کوموبائل فون بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں موبائل فون کے ٹاورز پر طالبان حملوں کے بعد موبائل فون کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنیوں نے ملک کے جنوب میں رات کے وقت موبائل فون بند کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ حالیہ ہفتوں کے دوران دس موبائل فون ٹاورز پر حملے کیے گئے۔ حکام کے مطابق تازہ حملہ منگل کی رات صوبۂ ہرات میں کیا گیا۔ گزشتہ ہفتے طالبان نے ان کمپنیوں کو دھمکی دی تھی کہ وہ رات کے وقت موبائل سگنلز بند کر دیں، کیونکہ بقول ان کے نیٹو اور افغان فوج موبائل فون کے نظام کو ان کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ افغانستان میں موبائل فون ہی زیادہ تر افراد کے لیے رابطے کا ذریعہ ہے۔ موبائل فون سنہ دو ہزار ایک میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد متعارف کروائے گئے تھے۔ افغانستان میں اس وقت چار موبائل فون کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ اور یہ تمام نجی شعبے میں ہیں۔ طالبان کی جانب سے حملوں کے نتیجے میں صوبہ زابل اور غزنی میں شام پانچ بجے سے صبح کے سات بجے تک موبائل فون کا نظام کام نہیں کرتا۔ قندھار اور ہلمند سے بھی ایسی ہی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان کمپنیوں کو رات کے وقت بھی موبائل نیٹ ورک بحال رکھنے پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگرچہ فون کمپنیوں نے اس معاملے میں بات کرنے سے انکار کیا ہے تاہم وزارت مواصلات کے ترجمان عبدالہادی ہادی نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے ان کمپنیوں کو طالبان کے سامنے ڈٹ جانے کو کہا ہے۔ |
اسی بارے میں افغانستان: پوست کی ریکارڈ پیداوار01 March, 2008 | آس پاس دس فیصدافغانستان پر طالبان قابض28 February, 2008 | آس پاس افغانستان: نیٹو کے دو فوجی ہلاک27 February, 2008 | آس پاس ’سگنل بند کرو ورنہ کھمبے۔۔۔‘25 February, 2008 | آس پاس افغان گورنر کی برطانیہ پر تنقید21 February, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||