افغان گورنر کی برطانیہ پر تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صوبہ قندھار کے گورنر نے برطانیہ کی طالبان سے پات چیت کی کوششوں پر نکتہ چینی کی ہے۔ اسد اللہ خالد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دو یورپی ماہرین کو اس لیے ملک سے نکالاگیا کیونکہ وہ غلط طریقے سے طالبان کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے۔ دو یورپی سفارتکاروں کو پچھلے سال اس وقت افغانستان سے نکل جانے کو کہا گیا تھا جب یہ معلوم ہوا کہ وہ مبینہ طور پر برطانیہ کی طرف سے چند طالبان کمانڈروں کے ساتھ معاملات طے کر رہے تھے۔ اسد اللہ خالد کا کہنا ہے کہ’وہ دو یورپی غلطی پر تھے۔ طالبان کے ساتھ مفاہمت کا طریقہ ڈھونڈنا ضروری ہے لیکن ایسا صرف افغان ہی کر سکتے ہیں۔ہم مفاہمت کی بات کر رہے ہیں نہ کہ دہشت گردوں کو اور زیادہ طاقتور بنانے کی‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ قندھار میں پچھلے تین دنوں میں تین خودکش حملے ہوئے ہیں تاہم طالبان کے خلاف جنگ میں کامیابی ہو رہی ہے۔ واضح رہے کہ برطانیہ اور افغانستان کے تعلقات خراب ہونے کی ایک وجہ یورپی ماہرین کا ملک سے نکالا جانا ہے اور اسی لیے صدر حامد کرزئی نے افغانستان میں اقوام متحدہ کے لیے برطانوی پیڈی ایش ڈاؤن کی تقرری مسترد کر دی تھی۔ | اسی بارے میں قندھار میں دوسرا دھماکہ، 35 ہلاک18 February, 2008 | آس پاس قندھار دھماکہ: کم از کم 80 ہلاک17 February, 2008 | آس پاس نیٹو کا مستقبل خطرے میں ہے: امریکہ07 February, 2008 | آس پاس ’افغان مشن ناکام ہوا تو حملے ممکن‘07 February, 2008 | آس پاس افغانستان:’ لائحہ عمل بدلنا ہوگا‘31 January, 2008 | آس پاس قندھار کا مُعجزاتی قبرستان18 January, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||