BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 February, 2008, 08:21 GMT 13:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغان گورنر کی برطانیہ پر تنقید

قندھار گورنر خالد
طالبان کے ساتھ مفاہمت صرف افغان ہی کر سکتے ہیں: خالد
افغانستان کے صوبہ قندھار کے گورنر نے برطانیہ کی طالبان سے پات چیت کی کوششوں پر نکتہ چینی کی ہے۔

اسد اللہ خالد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دو یورپی ماہرین کو اس لیے ملک سے نکالاگیا کیونکہ وہ غلط طریقے سے طالبان کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے۔

دو یورپی سفارتکاروں کو پچھلے سال اس وقت افغانستان سے نکل جانے کو کہا گیا تھا جب یہ معلوم ہوا کہ وہ مبینہ طور پر برطانیہ کی طرف سے چند طالبان کمانڈروں کے ساتھ معاملات طے کر رہے تھے۔

اسد اللہ خالد کا کہنا ہے کہ’وہ دو یورپی غلطی پر تھے۔ طالبان کے ساتھ مفاہمت کا طریقہ ڈھونڈنا ضروری ہے لیکن ایسا صرف افغان ہی کر سکتے ہیں۔ہم مفاہمت کی بات کر رہے ہیں نہ کہ دہشت گردوں کو اور زیادہ طاقتور بنانے کی‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ قندھار میں پچھلے تین دنوں میں تین خودکش حملے ہوئے ہیں تاہم طالبان کے خلاف جنگ میں کامیابی ہو رہی ہے۔

واضح رہے کہ برطانیہ اور افغانستان کے تعلقات خراب ہونے کی ایک وجہ یورپی ماہرین کا ملک سے نکالا جانا ہے اور اسی لیے صدر حامد کرزئی نے افغانستان میں اقوام متحدہ کے لیے برطانوی پیڈی ایش ڈاؤن کی تقرری مسترد کر دی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد