افغانستان: مددگار خواتین ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں بین الاقوامی امدادی اداروں کے لیے کام کرنے والی تین خواتین کو ان کے ڈرائیور سمیت فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ہلاکتوں پر مشتمل یہ واقعہ کابل سے ملحق صوبے میں پیش آیا۔ ہلاک ہونے والی خواتین کا تعلق امریکہ کینیڈا اور آئر لینڈ سے تھا اور وہ انٹرنیشل ریسکیو کمیٹی کے لیے کام کرتی تھیں۔ اس دوران ایک اور افغان اس وقت زخمی ہو گیا جب صوبہ لوگر میں دو کاروں میں سوار ایک قافلے پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی۔ افعانستان میں جاری تنازع کے دوران امدادی کام کرنے والے اداروں کو اکثر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کبھی ان کے قافلوں پر حملہ کیا جاتا ہے اور کبھی ان کے عملے کو اغوا اور ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ جنوبی افغانستان میں عدم سلامتی کی اس صورتِ حال کے باعث اکثر صوبوں میں امدادی اداروں کے کیے کام جاری رکھنا ناممکن ہو چکا ہے جب کہ تشدد مزید علاقوں میں پھیلتا جا رہا ہے۔ کابل کے جنوبی صوبہ لوگر کو اس سے پہلے مقابلتاً محفوظ تصور کیا جاتا ہے لیکن اب وہاں تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ نے اب لوگر کو ان صوبوں میں شامل کر دیا ہے جنہیں انتہائی خطرناک قرار دیا جا چکا ہے۔ | اسی بارے میں پاکستانی قونصل خانے کے باہر دھماکہ31 July, 2008 | آس پاس کابل: خود کش حملہ، متعدد ہلاک22 July, 2008 | آس پاس پاکستان پر کرزئی کا براہِ راست الزام14 July, 2008 | آس پاس ’کابل حملے میں آئی ایس آئی کا ہاتھ‘12 July, 2008 | آس پاس بھارتی سفارتخانے پر حملہ، 40 ہلاک07 July, 2008 | آس پاس دھماکہ، سلامتی کونسل کی مذمت07 July, 2008 | آس پاس فرار طالبان محفوظ ہیں: طالبان14 June, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||