’کابل حملے میں آئی ایس آئی کا ہاتھ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا نے الزام لگایا ہے کہ کابل میں اس کے سفارت خانے پر حملے میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا ہاتھ تھا۔ قومی سلامتی کے صلاح کار ایم کے نارائنن نے سنیچر کو دلی میں کہا کہ حکومت کے پاس اس سلسلے میں ’اچھی خاصی انٹیلیجنس موجود ہے۔‘ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں واقع بھارتی سفارتخانے پر سات جولائی کو ایک خودکش کار بم حملے میں چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ مرنے والوں میں افغانستان میں تعینات بھارتی فوجی اتاشی اور ایک سینئر بھارتی سفارتکار بھی شامل تھے۔ اس سے قبل حکومت افغانستان نے بھی آئی ایس آئی کا نام لیے بغیر اشارتاً کہا تھا کہ حملے میں پاکستان کا خفیہ ادارہ ملوث ہوسکتا ہے لیکن پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اس کی تردید کی تھی۔ افغانستان کی جانب سے انگلی اٹھائے جانے کے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے، جو واشنگٹن کے دورے پر ہیں، کہا کہ: ’ ہم افغانستان میں اپنے دوستوں کو بتا رہے ہیں کہ ان کے ملک میں شورش اور تشدد میں جو اضافہ ہورہا ہے، اس میں پاکستان کا ہاتھ نہیں ہے۔‘
لیکن مسٹر نارائنن نے امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کے بارے میں ایک بریفینگ کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ ان کے خیال میں حملے میں آئی ایس آئی کا ہاتھ تھا۔ انڈین ٹی وی چینلوں سے بات کرتے ہوئے مسٹر نارائنن نے کہا کہ ’ آئی ایس آئی کو تباہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں جب کبھی موقع ملا ہے، ہم نے یہ بات کہی ہے۔۔۔‘ مسٹر نارائنن کے الزام پر ابھی پاکستان کی جانب سے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ اس سے قبل دسمبر 2006 میں ایک خودکش حملہ آور نے افغان وزارتِ داخلہ کی عمارت کو نشانہ بنایا تھا اور اس واقعے میں بارہ افراد ہلاک اور بیالیس زخمی ہوئے تھے۔ اس دھماکے کے بعد علاقے میں مزید سکیورٹی چیک پوسٹیں اور حفاظتی بیرئر لگا دیے گئے تھے۔ |
اسی بارے میں ’امداد افغان تعمیرِ نو پر خرچ کریں‘06 July, 2008 | آس پاس ’امریکی بمباری، 22 شہری ہلاک‘06 July, 2008 | آس پاس افغانستان: ہلاکتیں، متضاد اطلاعات05 July, 2008 | آس پاس قندھار:چوکی پر حملہ، آٹھ ہلاک04 July, 2008 | آس پاس جون اتحادی افواج کے لیے بھاری رہا02 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||