جون اتحادی افواج کے لیے بھاری رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے بارے میں نئے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ وہاں موجود بین الاقوامی افواج پر مزاحمت کاروں کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ جبکہ لاکھوں افغان شہریوں کے لیے زندگی مایوس کن ہوتی جا رہی ہے۔ جون کا مہینہ وہاں موجود غیرملکی فوجیوں کے لیے دوہزار ایک میں طالبان کی پسپائی کے بعد سے اب تک سب سے زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہوا۔ افغانستان میں گزشتہ ماہ کم سے کم پینتالیس غیرملکی فوجی مختلف کارروائیوں کے دوران مارے گئے تھے۔ غیرملکی فوجی حکام کہتے ہیں کہ انہیں طالبان کے خلاف جنگ میں کامیابی مل رہی ہے جبکہ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بعض کے خیال میں افغانستان کے مسائل فوج حل نہیں کرسکتی۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے ہنگامی امداد کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ بدامنی، خشک سالی اور غذائی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے پینتالیس لاکھ افغانوں کو بھوک و افلاس کا سامنا | اسی بارے میں افغانستان:نیٹو کے دو فوجی ہلاک20 May, 2008 | آس پاس افغانستان میں نیٹو کے دو فوجی ہلاک16 April, 2008 | آس پاس ہلمند: دو برطانوی فوجی ہلاک 01 April, 2008 | آس پاس افغانستان میں عرب فوجی بھی ہیں30 March, 2008 | آس پاس ’موسیٰ قلعہ:شہری ہلاک ہوئے‘16 December, 2007 | آس پاس برطانوی فوجیوں کی واپسی کا فیصلہ08 October, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||