BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 October, 2007, 21:52 GMT 02:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانوی فوجیوں کی واپسی کا فیصلہ
برطانوی فوجی
دو ماہ بعد برطانوی فوج مقامی عراقی فورسز کو صرف تربیت دیں گی
برطانونی وزیرِاعظم گورڈن براؤن نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ موسمِ بہار میں جنوبی عراق میں متعین برطانوی فوجیوں میں سے نصف سے زائد واپس بلوا لیے جائیں گے۔

عراق میں اس وقت برطانیہ کے تقریباً ساڑھےپانچ ہزار فوجی ہیں جو زیادہ تر ملک کے جنوبی شہر بصرہ میں متعین ہیں اور وزیراعظم کے اعلان کے مطابق اس طرح ان کی تعداد ڈھائی ہزار کر دی جائے گی۔

لندن میں دارلعوام سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم گورڈن براؤن نے کہا کہ عراق میں متعین برطانوی افواج کی تعداد میں مزید کمی کا فیصلہ انخلاء کے پہلے مرحلے کے اختتام پر کیا جائے گا۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ بصرہ میں عراقی افواج آئندہ دو مہینوں میں مکمل طور پر سکیورٹی کا انتظام سنبھال لیں گی جس کے بعد برطانوی فوج مقامی فورسز کو صرف تربیت دینے کے فرائض انجام دیں گی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ برطانوی وزارت دفاع عراق میں برطانوی فوجیوں کی حفاظت کے لیے140 اضافی گشتی گاڑیوں کا آرڈر دے گی۔ گورڈن براؤن کا کہنا تھا کہ برطانوی افواج کے ساتھ ایک سال تک کام کرنے والے عراقی شہریوں کو بیرونِ ملک آباد ہونے میں مدد دی جائے گی۔

انہوں نے شام اور ایران پر زور دیا کہ وہ عراق میں دہشت گردوں کی حمایت کرنا اور اسلحہ فراہم کرنا بند کر دیں۔

عراق کے وزیراعظم نوری المالکی نے اپنے برطانوی ہم منصب کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ نوری المالکی کا کہنا ہے کہ عراق کے سکیورٹی اہلکار ملکی سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد