برطانوی فوجیوں کی واپسی کا فیصلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانونی وزیرِاعظم گورڈن براؤن نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ موسمِ بہار میں جنوبی عراق میں متعین برطانوی فوجیوں میں سے نصف سے زائد واپس بلوا لیے جائیں گے۔ عراق میں اس وقت برطانیہ کے تقریباً ساڑھےپانچ ہزار فوجی ہیں جو زیادہ تر ملک کے جنوبی شہر بصرہ میں متعین ہیں اور وزیراعظم کے اعلان کے مطابق اس طرح ان کی تعداد ڈھائی ہزار کر دی جائے گی۔ لندن میں دارلعوام سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم گورڈن براؤن نے کہا کہ عراق میں متعین برطانوی افواج کی تعداد میں مزید کمی کا فیصلہ انخلاء کے پہلے مرحلے کے اختتام پر کیا جائے گا۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ بصرہ میں عراقی افواج آئندہ دو مہینوں میں مکمل طور پر سکیورٹی کا انتظام سنبھال لیں گی جس کے بعد برطانوی فوج مقامی فورسز کو صرف تربیت دینے کے فرائض انجام دیں گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ برطانوی وزارت دفاع عراق میں برطانوی فوجیوں کی حفاظت کے لیے140 اضافی گشتی گاڑیوں کا آرڈر دے گی۔ گورڈن براؤن کا کہنا تھا کہ برطانوی افواج کے ساتھ ایک سال تک کام کرنے والے عراقی شہریوں کو بیرونِ ملک آباد ہونے میں مدد دی جائے گی۔ انہوں نے شام اور ایران پر زور دیا کہ وہ عراق میں دہشت گردوں کی حمایت کرنا اور اسلحہ فراہم کرنا بند کر دیں۔ عراق کے وزیراعظم نوری المالکی نے اپنے برطانوی ہم منصب کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ نوری المالکی کا کہنا ہے کہ عراق کے سکیورٹی اہلکار ملکی سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل ہیں۔ | اسی بارے میں برطانوی فوج کا بصرہ سے انخلاء02 September, 2007 | آس پاس آٹھ اتحادی فوجیوں کی ہلاکتیں12 August, 2007 | آس پاس شہزادہ ہیری عراق نہیں جائیں گے17 May, 2007 | آس پاس چار برطانوی اور پانچ امریکی ہلاک05 April, 2007 | آس پاس برطانوی چھاپے، مالکی کی مذمت05 March, 2007 | آس پاس عراق سےفوج کی واپسی: اعلان متوقع21 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||