برطانوی فوج کا بصرہ سے انخلاء | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی وزیر دفاع نے اعلان کیا ہے کہ برطانوی فوج نے بصرہ میں اپنے ایک اہم اڈے بصرہ پیلس سے انخلاء شروع کر دیا ہے۔ بصرہ پیلس سے انخلاء کے بعد یہ فوجی ان پچاس ہزار برطانوی فوجیوں سے جا ملیں گے جو بصرہ کے ہوائی اڈے کے قریب تعینات ہیں۔ بصرہ پیلس پر ساڑھے پانچ سو برطانوی فوجی تعینات تھے۔ برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن کی سرکاری رہائش گاہ ٹین ڈاؤنگ اسٹریٹ کے ایک ترجمان کا کہا کہنا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم اس انخلاء سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ سرکاری ترجمان نے کہا کہ برطانوی فوج کا بصرہ شہر سے یہ انخلاء تبدریج شہر کی سکیورٹی عراق فورسز کے حوالے کرنے کے پروگرام کا حصہ ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ بصرہ شہر سے فوجوں کا انخلاء عراق میں تعنیات برطانوی فوجیوں کی تعداد میں کمی کا حصہ ہے۔ ترجمان نے کہا کہ عراق سے فوجیوں کو واپسی بلانے کے فیصلہ کا آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں فوج کمانڈروں کی طرف سے صورت حال کا جائزہ پیش کیئے جانے کے بعد کیا جائے گا۔ بی بی سی کے سیاسی نامہ نگار کارول والکر کا کہنا ہے کہ فوجیوں کا بصرہ شہر سے انخلاء گورڈن براؤن کی پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی پالیسوں سے علیحدہ ہونے کا تاثر دینا چاہتے ہیں۔ لیکن گورڈن براؤن نے عراق سے برطانوی فوج کے انخلاء کے نظام الاوقات کا تعین نہیں کیا ہے۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار رچرڈ گیلپن نے کہا کہ بصرہ سے فوجیوں کا انخلاء بہت اہمیت کا حامل ہے۔ گزشتہ ایک سال میں برطانوی فوج نے تین جنوبی صوبوں کا اختیار عراق سکیورٹی فورسز کے حوالے کیا ہے۔ صرف بصرہ ہی اب برطانوی فوج کے زیر اختیار ہے اور یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں کہ بصرہ کو بھی آئندہ چند ماہ کے اندر عراقی سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا جائے گا۔ | اسی بارے میں شیعہ،سنّی اور کرد رہنماؤں کا معاہدہ26 August, 2007 | آس پاس کربلا میں مسلح تصادم، کرفیو نافذ28 August, 2007 | آس پاس مہدی آرمی کی سرگرمیاں معطل29 August, 2007 | آس پاس عراق میں پیش رفت سست: رپورٹ31 August, 2007 | آس پاس پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ تبدیل02 September, 2007 | آس پاس ’امریکی پالیسی ناقص تھی‘02 September, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||