مہدی آرمی کی سرگرمیاں معطل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے شیعہ شدت پسند رہنما مقتدی الصدر نے کہا ہے کہ وہ تنظیم نو کی وجہ سے مہدی آرمی کی سرگرمیاں چھ ماہ کے لیے معطل کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک پیغام میں ملیشیا کے کارکنوں سے کہا کہ وہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون اور خود پر کنٹرول کا مظاہرہ کریں۔کربلا میں نیوز کانفرنس کے دوران مقتدی الصدر کے ایک اتحادی شیخ ہضیم المعراج نے ان کا یہ پیغام پڑھ کر سنایا۔ تجزیہ نگار مقتدی الصدر کے اس اقدام کو ملیشیا کے اندر تیزی سے بڑھتی تقسیم پر قابو پانے کی ایک کوشش قرار دے رہے ہیں۔ ان کا یہ پیغام کربلا میں پڑھ کر سنایا گیا جہاں منگل کو ایک جھڑپ کے دوران پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پولیس نے تشدد کے ان واقعات کا الزام مہدی آرمی پر لگایا ہے تاہم مہدی آرمی نے اس کی تردید کی ہے۔ شہر میں کرفیو لگا دیا گیا ہے جہاں اطلاعات کے مطابق صورت حال اس وقت پرسکون ہے۔
پیغام پڑھ کر سناتے ہوئے شیخ ہضیم المعراج کا کہنا تھا کہ’ ہم مہدی آرمی کے کے اصل تشخص کو بچانے کے لیے اس کی سرگرمیاں معطل کر رہے ہیں۔‘ نجف میں تنظیم کے ایک اور ترجمان کا کہنا تھا کہ مقتدی الصدر کی جانب سے جاری کردہ اس حکم میں تنظیم کے اراکین کو دشمنوں اور دوسروں سے اسلحہ چھیننے سے باز رہنے کو بھی کہا گیا ہے۔ اپریل 2007 میں امریکی محکمۂ دفاع نے مہدی آرمی کو عراق کی سکیورٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔ حالیہ کچھ ماہ کے دوران مہدی آرمی کے کئی خودمختار دھڑے وجود میں آگئے تھے جن میں سے کچھ کے بارے میں امریکہ کا کہنا ہے کہ انہیں ایران نے تربیت دی ہے اور مسلح کیا ہے۔ مقتدی الصدر نے 2003 میں مہدی آرمی کی بنیاد رکھی تھی اور اس کے قیام کا مقصد نجف شہر کے شیعہ حکام کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ مہدی آرمی نے امریکی قبضے کی شدید مخالفت کی تھی اور اس نے دو ہزار چار میں سکیورٹی فورسز کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی تھیں۔ آرمی کا عراق کے سنی عربوں پر فرقہ وارانہ حملے کرنے والوں سے تعلق بھی جوڑا جاتا رہا ہے۔ |
اسی بارے میں عراق بم دھماکہ گورنر ہلاک11 August, 2007 | آس پاس ’عراق میں مقامی سطح پر پیش رفت‘ 18 August, 2007 | آس پاس عراق:’عالم سمیت 22ہلاک‘23 August, 2007 | آس پاس عراق:گورنر دھماکے میں ہلاک20 August, 2007 | آس پاس نجف میں جھڑپیں پانچ افراد ہلاک11 June, 2004 | آس پاس ’یرغمالی: مہدی آرمی ملوث نہیں ‘31 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||