BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 August, 2007, 17:38 GMT 22:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مہدی آرمی کی سرگرمیاں معطل
فائل فوٹو
خیال ہے کہ تقریباً چھ ہزار جنگجو مہدی آرمی کا حصہ ہیں
عراق کے شیعہ شدت پسند رہنما مقتدی الصدر نے کہا ہے کہ وہ تنظیم نو کی وجہ سے مہدی آرمی کی سرگرمیاں چھ ماہ کے لیے معطل کر رہے ہیں۔

انہوں نے ایک پیغام میں ملیشیا کے کارکنوں سے کہا کہ وہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون اور خود پر کنٹرول کا مظاہرہ کریں۔کربلا میں نیوز کانفرنس کے دوران مقتدی الصدر کے ایک اتحادی شیخ ہضیم المعراج نے ان کا یہ پیغام پڑھ کر سنایا۔

تجزیہ نگار مقتدی الصدر کے اس اقدام کو ملیشیا کے اندر تیزی سے بڑھتی تقسیم پر قابو پانے کی ایک کوشش قرار دے رہے ہیں۔ ان کا یہ پیغام کربلا میں پڑھ کر سنایا گیا جہاں منگل کو ایک جھڑپ کے دوران پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پولیس نے تشدد کے ان واقعات کا الزام مہدی آرمی پر لگایا ہے تاہم مہدی آرمی نے اس کی تردید کی ہے۔ شہر میں کرفیو لگا دیا گیا ہے جہاں اطلاعات کے مطابق صورت حال اس وقت پرسکون ہے۔

فائل فوٹو
مقتدی الصدر نے 2003 میں مہدی آرمی کی بنیاد رکھی تھی

پیغام پڑھ کر سناتے ہوئے شیخ ہضیم المعراج کا کہنا تھا کہ’ ہم مہدی آرمی کے کے اصل تشخص کو بچانے کے لیے اس کی سرگرمیاں معطل کر رہے ہیں۔‘

نجف میں تنظیم کے ایک اور ترجمان کا کہنا تھا کہ مقتدی الصدر کی جانب سے جاری کردہ اس حکم میں تنظیم کے اراکین کو دشمنوں اور دوسروں سے اسلحہ چھیننے سے باز رہنے کو بھی کہا گیا ہے۔

اپریل 2007 میں امریکی محکمۂ دفاع نے مہدی آرمی کو عراق کی سکیورٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔ حالیہ کچھ ماہ کے دوران مہدی آرمی کے کئی خودمختار دھڑے وجود میں آگئے تھے جن میں سے کچھ کے بارے میں امریکہ کا کہنا ہے کہ انہیں ایران نے تربیت دی ہے اور مسلح کیا ہے۔

مقتدی الصدر نے 2003 میں مہدی آرمی کی بنیاد رکھی تھی اور اس کے قیام کا مقصد نجف شہر کے شیعہ حکام کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔

مہدی آرمی نے امریکی قبضے کی شدید مخالفت کی تھی اور اس نے دو ہزار چار میں سکیورٹی فورسز کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی تھیں۔ آرمی کا عراق کے سنی عربوں پر فرقہ وارانہ حملے کرنے والوں سے تعلق بھی جوڑا جاتا رہا ہے۔

شیعہ رہنما مقتدٰی الصدرمقتدٰی کی’روانگی‘
مہدی ملیشیا کے رہنما ’ایران چلے گئے‘
عبدل ظاہرہ’اللہ کے سپاہی‘
نجف میں ’امام مہدی‘ کے 200 پیروکار ہلاک
اسی بارے میں
عراق:’عالم سمیت 22ہلاک‘
23 August, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد