’یرغمالی: مہدی آرمی ملوث نہیں ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں شیعہ ریڈیکل راہنما مقتدٰی صدر کے ایک قریبی ساتھی نے برطانوی شہریوں کے اغواء میں مہدی آرمی کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ برطانوی وزیرخارجہ مارگریٹ بیکٹ نے کہا ہے کہ صورتحال اب بھی غیر واضح ہے تاہم مغویوں کی بازیابی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل عراقی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ عراق کے دارالحکومت بغداد سے پانچ برطانوی شہریوں کے اغواء کے پیچھے شیعہ مزاحمت کاروں کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ عراق کے وزیر خارجہ ہوشیار زبیری کا کہنا ہے کہ القاعدہ نہیں بلکہ اس معاملے میں مہدی آرمی ملوث سکتی ہے۔ تاہم شیخ عبدل الستار البہادلی نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر کے حامی اور مہدی آرمی بے گناہ ہے اور وہ عراق کی تعمیر چاہتے ہیں۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اغواء کا معاملہ حکومت کے لیے ایک چیلنج کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے بی بی سی کے ایک پروگرام ٹوڈے کو بتایا کہ اغواء کاروں کے مقامی پولیس اہلکاروں سے رابطے معلوم ہوتے تھے۔ بغداد میں کلیسا کے ایک نمائندے کا کہنا ہے کہ ان افراد کے اغواء کا تعلق، حال ہی میں برطانوی فوج کے ہاتھوں شدت پسند شیعہ رہنما کی ہلاکت سے بھی ہو سکتا ہے۔ پانچ برطانوی شہریوں کو جن میں کمپوٹر کے ایک ماہر اور ان کے چار باڈی گارڈز شامل ہیں، وزارتِ خزانہ کی عمارت سے منگل کے روز اغواء کیا گیا تھا۔ عراق میں سینئر حکام نے بتایا کہ اغواء کاروں نے پولیس اہلکاروں کے کپڑے پہن رکھے تھے، جنہوں نے اپنا کام بغیر کسی شور شرابے کے خاموشی سے کیا۔ دوسری جانب برطانوی وزیراعظم ٹونی بلئیر کاکہنا ہے: ’ہم اس معاملے میں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی کوشش کریں گے‘۔ عراق میں برطانوی حکام اس معاملے پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور عراقی حکومت نے ایک خصوصی آپریشن روم قائم کردیا ہے۔ اغواء ہونے والے چار سکیورٹی گارڈ کینیڈا سے تعلق رکھنے والی سکیورٹی فرم گارڈ اے ورلڈ کے لیے کام کرتے تھے۔ یہ کمپنی عراق میں سکیورٹی فراہم کرنے والی بڑی کمپنی میں سے ایک ہے جس کے زیادہ تر ملازم برطانوی ہیں۔ مغوی کمپیوٹر ماہر ایک امریکی مینجمنٹ کمپنی کے لیے کام کررہے تھے۔ یہ کمپنی 2003 سے عراق میں مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ عراق میں کسی سرکاری عمارت سے غیر ملکی کو اغواء کیے جانے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ پچھلے چار برسوں کے دوران تقریباً دو سو غیر ملکیوں کو اغواء کیا جا چکا ہے اور گزشتہ دو ایک سال کے دوران اغواء کی ان وارداتوں میں کمی آئی ہے۔ |
اسی بارے میں ’یہ شیعہ مزاحمت کاروں کا کام ہے‘30 May, 2007 | آس پاس عراق میں 250 مزاحمتی ہلاک28 January, 2007 | آس پاس عراق: بم دھماکے میں 33ہلاک06 May, 2007 | آس پاس عراق: سات امریکی فوجی ہلاک21 May, 2007 | آس پاس ’عراق، تقسیم و تباہی کےدہانے پر‘ 17 May, 2007 | آس پاس عراق: خودکش بم دھماکہ 30 ہلاک13 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||