نجف میں جھڑپیں پانچ افراد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نجف میں عراقی پولیس اور ریڈیکل شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان جھڑپوں کے نتیجے میں حال ہی میں ہونے والی جنگ بندی کی مفاہمت خطرے میں پڑ گئی ہے ۔ جھڑپوں کے دوران ہلاک ہونے والوں میں ایک پولیس والا بھی شامل ہے جب کہ انتیس شہری زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی فوجیوں اور ان کے اتحادیوں کی مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کے مابین فائر بندی پر مفاہمت چار جون کو ہوئی تھی۔ عراقی پولیس کا کہنا ہے کہ ان جھڑپوں میں امریکی فوجی یا ان کے اتحادی ملوث نہیں تھے۔ کہا جاتا ہے کہ تشدد اس وقت شروع ہوا جب پولیس نے چوری کے مبینہ ملزموں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جس کے بعد مہدی آرمی کے لوگوں نے ایک پولیس سٹیشن پر مشین گنوں اور راکٹ پروپیلڈ گرنیڈوں سے حملہ کر دیا۔ دس گھنٹے کی لڑائی کے بعد مزاحمتی دستوں نے حضرت علی کے روضے کے قریب ایک پولیس سٹیشن پرقبضہ کر لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ مقتدی الصدر کے گھر کے قریب بھی گولیوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ پچھلے ہفتے کے بعد جب امریکی فوج اور مزاحمتی دستوں نے پیچھے ہٹنے کا معاہدہ کیا تھا نجف میں تشدد کا یہ پہلا واقعہ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ مفاہمت میں طے پایا تھا کہ مہدی آرمی کے لوگ نجف اور کوفہ کے مقدس مزاروں سے دستبردار ہو جائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||