پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ تبدیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای ملک کی مسلح تنظیم پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ کو ان کے عہدے سے ہٹا کر ایک نئے سربراہ کو تعینات کر دیا ہے۔ دو ہفتے قبل امریکی حکام نے کہا تھا کہ امریکہ اس تنظیم کو دہشت گرد گروپوںں کی فہرست میں شامل کر سکتا ہے۔ جنرل یحیٰ رحیم صفوی جو پاسدارنِ انقلاب کے سربراہ تھے اپنے عہدے سے سبکدوش ہو کر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خصوصی مشیر مقرر ہو رہے ہیں۔ ان کی جگہ پاسداران کے ایک کمانڈر محمد علی جعفری نئے سربراہ بن رہے ہیں۔ پاسداران کی تنظیم انیس سو اناسی میں ایرانی انقلات کے بعد قائم ہوئی تھی تاکہ ایران کی روحانی پیشوا آیت اللہ خمینی کے نظریات کا دفاع کیا جائے۔ کچھ عرصہ قبل امریکی اخبارات نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب کو دہشتگرد قرار دینے کا اعلان جلد ہی متوقع ہے۔ تاحال امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے بیالیس تنظیموں کو غیر ملکی دہشتگرد قرار دیا گیا ہے جن میں القاعدہ کے علاوہ، لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ اور حماس اور اسلامک جہاد جیسی فلسطینی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ امریکہ بارہا ایران پر افغانستان اور عراق کو غیرمستحکم کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے اور اس کا یہ بھی دعوٰی ہے کہ پاسدارانِ انقلاب مزاحمت کاروں کو ہتھیار اور تربیت فراہم کرتے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ کونڈالیزا رائس ایرانی یونٹ کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کی حامی ہیں اور انہوں نےاس منصوبے کی حمایت سلامتی کونسل کی جانب سے ایران پر سخت پابندیاں لگانے میں ناکامی کے بعد کی۔ | اسی بارے میں کربلا والے حملے کا الزام ایران پر13 June, 2007 | آس پاس ایران کے خلاف پابندیوں پر اختلاف11 March, 2007 | آس پاس ایران: سترہ شدت پسند ہلاک01 March, 2007 | آس پاس ایران: 11 پاسدارانِ انقلاب ہلاک14 February, 2007 | آس پاس ایران:’بش انتظامیہ محتاط رویہ اپنائے‘12 February, 2007 | آس پاس امریکہ سے ایرانیوں کی رہائی کا مطالبہ14 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||