BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 14 January, 2007, 08:20 GMT 13:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ سے ایرانیوں کی رہائی کا مطالبہ
ایرانیوں کو شمالی عراق کے اربیل نامی شہر سے گرفتار کیا گیا تھا
ایرانی حکومت نے شمالی عراق میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے پانچ ایرانیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ پانچوں افراد سفارتکار ہیں۔

امریکی فوج نے جمعرات کو شمالی عراق کے شہر اربیل میں موجود ایرانی قونصلیٹ پر حملہ کرکے وہاں پر کام کرنے والے پانچ افراد کو گرفتار کیا تھا۔

امریکی فوج کا الزام ہے کہ ان افراد کا تعلق ایرانی تنظیم پاسداران انقلاب سے ہے۔ اس تنظیم کے بارے میں امریکیوں کا کہنا ہےکہ یہ عراق میں عسکریت پسندوں کو امریکی فوجیوں کے خلاف حملوں کے لیے تربیت، اسلحہ اور پیسہ فراہم کرتی رہی ہے۔

دوسری جانب ایران اس الزام کو رد کرتا ہے اور اس کا موقف ہے کہ گرفتار کیے گئے ایرانی افراد قونصلیٹ کے معاملات سے منسلک رہے ہیں۔ ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان محمد علی حسینی کا کہنا ہے کہ یہ لوگ کسی قسم کی غیر قانونی کارروائی میں ملوث نہیں رہے ہیں۔ ایران کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ حملے کے دوران ایرانی قونصلیٹ کی عمارت کو پہنچنے والے نقصان کا زر تلافی ادا کیا جائے۔

مقامی حکام کے مطابق امریکی فوجیوں نے اس عمارت پر دن کے تین بجے حملہ کیا تھا اور وہاں پر موجود کمپیوٹر اور دیگر دستاویزات بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

عراق میں اتحادی فوج نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ عراق کو غیر مستحکم کرنے کی ’بیرونی کوششوں‘ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

الزامات
بش انتظامیہ ایران پر الزام عائد کرتی ہے کہ وہ عراق میں فسادات کو مزید ہوا دے رہا ہے اور جوہری ہتھیار بھی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران ان دونوں الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ امریکی فوج نے مشرق وسطٰی میں اپنی فوجیں بھیج کر پورے خطے کی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے ہی سے شدید کشیدگی ہے۔

بش انتظامیہ ایران پر الزام عائد کر رہی ہے کہ وہ عراق میں فسادات کو مزید ہوا دے رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ جوہری ہتھیار بھی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایران ان دونوں الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ امریکی فوج نے مشرق وسطٰی میں اپنی فوجیں بھیج کر پورے خطے کی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

اربیل عراق میں کردوں کے زیرِ انتظام شمالی علاقوں میں آتا ہے اور دارالحکومت سے تقریبًا تین سو پچاس کلومیٹر پر واقع ہے۔

ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس علاقے میں 1992 میں ایرانی قونصلیٹ کردوں کی علاقائی حکومت کے ساتھ اس معاہدے کے تحت باقاعدہ طور پر راسٹر کروایا گیا تھا تا کہ اس سے دونوں ملکوں کے عوام کو سرحد کے پار آنے جانے میں مدد ملے گی۔

عراقی حکومت کا کہنا تھا کہ یہ آفس ، دفتر رابطہ کے طور پر قائم کیا گیا تھا اور ابھی قونصلیٹ کے طور پر رجسٹر ہونے کے مراحل میں تھا۔

گزشتہ دسمبر میں امریکی فوجیوں نے عراق میں موجود متعدد ایرانیوں کو گرفتار کر لیا تھا جن میں سے دو ایرانی سفیر تھے تاہم انہیں بعد میں رہا کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد