ایران:’بش انتظامیہ محتاط رویہ اپنائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی جانب سے ایرانی حکومت پر عراقی مزاحمت کاروں کو جدید ترین بم فراہم کرنے کے الزام پر سینیئر ڈیموکریٹ سیاستدانوں نے بش انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ عراق میں تشدد کو ہوا دینے کے حوالے سے ایران پر الزام تراشی کے سلسلے میں احتیاط کا مظاہرہ کرے۔ سینئر دفاعی اہلکاروں نے بغداد میں رپورٹروں کو بتایا ہے کہ’ایران کی طرف سے فراہم کردہ بموں‘ کو مہلک ترین اثرات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جس سے جون دو ہزار چار سے لیکر اب تک ایک سو ستر امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس ڈاڈ کا کہنا ہے کہ بش انتظامیہ پہلے بھی جھوٹے ثبوت پیش کرنے کی کوشش کر چکی ہے اور وہ اس دعوے کے حوالے سے مشکوک ہیں۔ ایک اور ڈیموکریٹ سینیٹر اور سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے رکن ران وائڈن کے مطابق بش انتطامیہ اس وقت ایران کے حوالے سے اسی قسم کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے جیسا کہ اس نے عراق پر چڑھائی سے قبل پیٹا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ہتھیار جنہیں ’دھماکہ خیز پروجیکٹائلز‘ کہا جا رہا ہے ایک ابرام ٹینک کو تباہ کر سکتے ہیں۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ یہ بم ایران سے عراق سمگل کیے گئے ہیں لیکن ان دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی۔
امریکی اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان ہتھیاروں نے دو ہزار چار جون سے اب تک 620 امریکی فوجیوں کو زخمی کیا ہے۔ امریکہ میں انٹیلیجنس کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ بم ایران میں بنے تھے اور تہران میں سینئر اہلکاروں کے حکم پر عراق بھیجے گئے۔ ایک امریکی اہلکار نے الزام لگایا ہے کہ عراقی مزاحمت کاروں کو زیادہ سے زیادہ جدید ہتھیار فراہم کرنے کی ہدایت ایرانی قیادت کی اعلٰی ترین سطح سے جاری ہوئی ہے۔ ان کا اشارہ ایران کے القدس بریگیڈ کی طرف تھا جو ’پاسدارانِ انقلاب‘ کا ایک یونٹ ہے اور براہ راست آیت اللہ خامنائی کو رپورٹ کرتا ہے۔ امریکی محکمۂ دفاع کے حکام نے صحافیوں کو وہ ہتھیار اور ان کے اجزاء دکھائے جن کےلیے ان دعوٰی تھا کہ ایران سے تعلق رکھتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ معلومات عراق میں امریکیوں کی طرف سے مبینہ طور پر کئی ایرانیوں کو حراست میں لیے جانے کے بعد حاصل ہوئی ہیں۔ ایران نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
امریکی اہلکار نے کہا کہ بم بنانے کی ٹیکنالوجی کے علاوہ ایرانی حکومت شیعہ گروہوں کو پیسے اور فوجی ٹریننگ بھی دے رہی ہے۔ بغداد میں ہونے والی اس پریس بریفنگ میں کسی قسم کے ریکارڈنگ کے آلات اور کیمرے لے جانے پر پابندی تھی۔ پریس کانفرنس میں وہ بم اور شیل بھی دکھائے گئے جن کے متعلق امریکہ کا الزام ہے کہ وہ ایران نے بنائے ہیں۔ امریکی اہلکار نے بتایا کہ خطے میں ایران ہی وہ واحد ملک ہے جس میں اس قسم کے ہتھیار بنائے جاتے ہیں۔ | اسی بارے میں ’عراق میں ایرانی بموں کا استعمال‘11 February, 2007 | آس پاس ’عراق، اربوں ڈالر بھیجنا درست تھا‘07 February, 2007 | آس پاس میونخ کانفرنس، توجہ ایران پر11 February, 2007 | آس پاس امریکہ’بہت خطرناک‘ ہے: پوتن10 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||