کربلا میں مسلح تصادم، کرفیو نافذ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کربلا کے مرکز میں مسلح جھڑپوں کے بعد عراقی پولیس نے وہاں موجود لاکھوں زائرین کو شہر چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ ہتھیار بندوں اور پولیس کے مابین حضرت امام حسین کے روضے کے قریب فائرنگ کے نتیجے میں زائرین میں کھلبلی مچ گئی۔ اطلاعات کے مطابق ابھی تک فائرنگ کے نتیجے میں دس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ پولیس نے لوگوں کو کربلا میں داخل ہونے سے روک دیا ہے اور روضے کو جانے والے تمام راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ اس وقت شیعہ مسلمان امام مہدی کے عرس کے سلسلے میں کربلا میں جمع ہیں۔ دوسری طرف امریکی فوج نے بغداد کے اسی میل شمال میں عراقی فوج کے ساتھ ایک آپریشن میں 33 مزاحمت کاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔ عراق میں امریکی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ پیر کو خالص نامی قصبے میں واٹر سپلائی لائن کو از سرِ نو کھولنے کے لیے ہونے والی کارروائی میں کئی سو امریکی اور عراقی فوجیوں نے حصہ لیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں القاعدہ جنگجو بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ مزاحمت کاروں نے کئی روز پہلے خالص کے قصبے کو پینے کے پانی کی ترسیل آبپاشی کی نہر کو بند کر کے روک دی تھی۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ خالص میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے اترنے والے امریکی اور عراقی دستوں نے 13 مزاحمت کاروں کو ہلاک کر دیا جبکہ بیس دیگر مزاحمت کار فضائی بمباری میں ہلاک ہوئے۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا اس کارروائی میں امریکی اور عراقی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں یا نہیں۔ | اسی بارے میں پاکستانی عراق نہ جائیں: حکومت 02 September, 2006 | آس پاس کربلا: 11 پاکستانی زائرین ہلاک02 September, 2006 | آس پاس کربلا: کار بم حملے میں 47 ہلاک14 April, 2007 | آس پاس کربلا بم حملہ، پچپن افراد ہلاک28 April, 2007 | آس پاس کربلا والے حملے کا الزام ایران پر02 July, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||