کربلا والے حملے کا الزام ایران پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی فوج نے ایران پر اس حملے کا الزام عائد کیا ہے جس میں پانچ امریکی فوج ہلاک ہوئے تھے۔ ایران پر یہ الزام بھی لگا ہے کہ وہ عراق میں مزاحمت کاروں کی تربیت کے لیے لبنان کے شدت پسندوں کو استعمال کر رہا ہے۔ امریکی فوج کے ایک ترجمان کے مطابق یہ اطلاعات جنوبی عراق میں حزب اللہ کے ایک اعلیٰ سطحی جنگجو کی حالیہ حراست کے بعد سامنے آئی ہیں۔ امریکی فوج کے برگیڈیئر جنرل کیون برگنر کا کہنا ہے کہ مشتبہ جنگجو نے یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ قدس فورس کے ساتھ کام کرتا رہا ہے، جس کا تعلق ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے ہے۔ ایران نے ہمیشہ عراق میں امریکی فوج کے خلاف کسی کارروائی میں شمولیت سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ امریکی حمایت یافتہ عراقی حکومت کا حامی ہے۔ ایران یہ بھی کہتا ہے کہ عراق میں تشدد کا سبب سنہ دو ہزار تین میں عراق میں امریکی حملے کے بعد سے پیدا ہوا والی مختلف چپقلشیں ہیں۔ جنرل برگنر کے مطابق قدس فورس اور ایران کی حمایت یافتہ شیعہ تنظیم حزب اللہ دنوں مل کر تہران کے قریب کیمپ چلا رہے ہیں جس میں عراقی مزاحمت کاروں کی تربیت کرنے کے بعد انہیں حملوں کے لیے عراق واپس بھیجا جاتا ہے۔ امریکی جنرل کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے علی موسیٰ دقدوق جنہیں مارچ میں گرفتار کیا گیا تھا، ایران کی قدس فورس اور شیعہ گروپ کے درمیان رابطے کا کام کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس گروپ نے جس کی قیادت مقتدیٰ الصدر کے ایک سابق ترجمان کرتے رہے ہیں، جنوری میں کربلا میں صوبائی حکومت کی عمارت پر حملہ کیا تھا۔ امریکہ کے مطابق علی موسیٰ دقدوق کو قدس فورس نے ہدایت کی تھی کہ عراقیوں کے ملک کے اندر سے باہر اور باہر سے اندر کیا جائے اور یہ کہ عراق کے خصوصی گروپوں کی تربیت اور کارروائیوں کے بارے میں قدس فورس کو آگاہ کیا جائے۔ ’انہوں سکھایا گیا کہ دھماکہ خیزمواد، مارٹر، راکٹ کیسے استعمال کرنے ہیں اور خفیہ معلومات، چھپ کر وار کرنے اور اغواء کی وارداتیں کیسے کی جانی ہیں۔‘ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکی جنرل کا یہ بیان امریکی فوج کی اس مہم کا حصہ ہے جس کے تحت ایران کو عراق میں مزاحمت کا ملزم ٹھہرایا جاتا ہے۔ کافی عرصے سے ایران پر یہ الزام بھی ہے کہ وہ امریکہ مخالف شدت پسندوں کی مالی معاونت کرتا ہے۔ البتہ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایران پر یہ الزام لگا ہے کہ اسے کربلا کے واقعے کا پہلے سے علم تھا۔ جنرل برگنر کا کہنا تھا کہ علی موسیٰ دقدوق نے بتایا ہے کہ کربلا میں حملہ کرنے والے اتنی پیچدہ کارروائی قدس فورس کی حمایت اور ہدایت کے بعد کر ہی نہیں سکتے تھے۔ کربلا کے حملے میں پانچ امریکی فوجی مارے گئے تھے۔ اس حملے میں درجن بھر مسلح افراد نے امریکی سکیورٹی ٹیم کے بھیس میں ایک عمارت تک رسائی حاصل کی تھی۔ |
اسی بارے میں امریکی ہلاکتوں پر تعزیتی دن27 May, 2007 | آس پاس سنی برادری سے اتحاد کی اپیل26 May, 2007 | آس پاس مقتدیٰ الصدر کئی ماہ بعد دیکھے گئے 25 May, 2007 | آس پاس عراق: کانگریس نے فنڈز منظور کر دیے24 May, 2007 | آس پاس فلوجہ: کار دھماکہ، 40 افراد ہلاک24 May, 2007 | آس پاس لاپتہ امریکی فوجی کی لاش ملی گئی23 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||