BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 September, 2007, 02:30 GMT 07:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکی پالیسی ناقص تھی‘
صدام حکومت کے خاتمے کے بعد عراقی فوج اور سیکورٹی کو ختم کرنا کوتاہ نظری کا ثبوت تھا: سر جنرل (ریٹائرڈ) مائیک جیکسن
برطانوی فوج کے ایک اہم ترین سابق جنرل، میجر جنرل ٹم کراس نے عراق میں جنگ کے بعد کی امریکی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

میجر جنرل ٹم کراس نے جو چار سال قبل عراق پر امریکی سالاری میں لڑی جانے والی جنگ کے بعد کی منصوبہ بندی میں شریک رہے ہیں، برطانیہ کے اخبار ’سنڈے مرر‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی پالیسی بہت بری طرح ناقص ہے۔

جنرل ٹم کراس کا بیان جنرل سرمائیک جیکسن کے بیان کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے برطانیہ ہی کے ایک اخبار ڈیلی ٹیلیگراف کو بتایا تھا کہ عراق میں امریکی پالیسی ذہنی دیوالیہ پن کا شکار ہے۔ جنرل سر مائیک عراق پر حملے کے دوران برطانوی فوج کے سربراہ تھے۔

تاہم اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر جان بولٹن نے سر مائیک کی تنقید کو مسترد کر دیا ہے۔

وزارتِ دفاع نے سر مائیک کے بیان پر دبے الفاظ میں یہ تبصرہ کیا تھا کہ انہیں اپنی سابقہ ملازمت پر رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے۔ سر مائیک اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔

جنرل سر مائیک جیکسن
جنرل سر مائیک جیکسن بھی اب ریٹائر ہو چکے ہیں

میجر جنرل کراس بھی جو اب ریٹائر ہو چکے ہیں کہا کہ انہوں نے سابق امریکی وزیرِ دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ کے سامنے اپنی اس تشویش کا اظہار کیا تھا کہ عراق میں جنگ کے بعد کی امریکی پالیسی عیب دار ہے۔

’تاہم رمزفیلڈ صاحب نے یا تو اس بات کو مسترد کر دیا یا پھر نظر انداز کر دیا۔‘

ان کا کہنا تھا: ’ہم سب ابتدا ہی سے اس مسئلے اور خصوصاً اس کی تفصیلات پر تشویش میں مبتلا تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈونلڈ رمزفیلڈ اس عمل کے کرتا دھرتا تھے۔‘

انہوں نے یہ بھی کہ کہ فروری دو ہزار تین میں عراق جنگ سے صرف ایک ماہ قبل لنچ پر انہوں نے امریکی وزیرِ دفاع سے جنگ کے بعد کی صورتِ حال پر تشویش ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ اس مسئلے کو بین الاقوامی حمایت کی ضرورت ہوگی اور عراق کی تعمیرِ نو کے لیے اقوامِ متحدہ کے ساتھ بہت مل کر کام کرنا ہوگا۔

’میں نےسیکورٹی کے نقطۂ نظر سے افواج کی تعداد پر بھی بات کی تھی مگر ڈونالڈ رمزفیلڈ یہ بات سننا ہی نہیں چاہتے تھے۔ امریکہ کو اس بات کا بہت یقین تھا کہ عراق پر حملے کے بعد یہ ملک بہت جلد ایک مستحکم جمہوریت بن کر ابھرے گا۔‘

سر مائیک نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ عراق کی انتظامی منصوبہ بندی کا کنٹرول پینٹاگون کے ہاتھ میں دینا درست نہیں تھا۔’صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد عراقی فوج اور سیکورٹی کو ختم کرنا کوتاہ نظری کا ثبوت تھا۔‘

اسی بارے میں
عراق:’عالم سمیت 22ہلاک‘
23 August, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد