BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 August, 2007, 07:46 GMT 12:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اہم ریپبلکن سینیٹر کا انخلا پر زور
امریکی فوجی
عراق میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زیادہ امریکی فوجی تعینات ہیں۔

امریکہ میں حزبِ اقتدار ریپبلکن جماعت کے ایک اہم سینیٹر نے صدر بش پر زور دیا ہے کہ وہ اس برس کے آخر تک عراق سے پانچ ہزار امریکی فوجیوں کا انخلا ممکن بنائیں۔

سینیٹ آرمڈ سروس کمیٹی کے سابق چیئرمین سینیٹر جان وارنر نے کہا ہے کہ اگرچہ امریکی افواج کی وجہ سے عراق میں سیکیورٹی کی صورتِ حال بہتر ہوئی ہے لیکن اس سلسلے میں عراقی حکومت کی اپنی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اب یہ واضح کرنا چاہیے کہ وہ غیرمشروط طور پر عراق کے لیے ذمہ دار نہیں ہے اور کرسمس سے پہلے پانچ ہزار امریکی افواج کا انخلا عراقی حکومت کے لیے ایک واضح سگنل ہوگا۔ تاہم سینیٹر وارنر کا کہنا ہے کہ انخلا کے اوقاتِ کار کا تعین صدر کو ہی کرنا چاہیے نہ کہ سینیٹ کو۔

انہوں نے یہ بات امریکی انٹیلیجنس کی ایک حالیہ رپورٹ کے جاری کئے جانے کے بعد کہی جس میں کہا گیا ہے کہ عراقی رہنما حکومت کو چلانے میں ناکام ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری میں عراق میں امریکی افواج میں ’کچھ اضافے‘ کے بعد جزوی فوجی کامیابی ہوئی ہے تاہم عراقی سیکیورٹی فورسز اب بھی امریکی افواج کی مدد کے بغیر تحفظ یقینی نہیں بنا سکتیں اور سنی اور شیعہ تقسیم ابھی تک عدم استحکام کا سبب ہے۔ رپورٹ میں اگلے چھ سے بارہ ماہ میں صورتِ حال مزید بگڑنے کی پیشین گوئی بھی کی گئی ہے۔

عراقی حکومت کے لیے سگنل
News image
 امریکہ کو اب یہ واضح کرنا چاہیے کہ وہ غیرمشروط طور پر عراق کے لیے ذمہ دار نہیں ہے اور کرسمس سے پہلے پانچ ہزار امریکی افواج کا انخلا عراقی حکومت کے لیے ایک واضح سگنل ہوگا۔
سینیٹر جان وارنر

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایسے وقت پر جب عراق میں جنگ کے لیے امریکی رائے عامہ تقسیم ہے صدر جارج بش کی اپنی پارٹی کے ایک سینیئر سینیٹر کی طرف سے کہی جانے والی یہ بات دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

نیشنل انٹیلیجنس ایسٹیمیٹ نامی رپورٹ امریکہ کی سولہ انٹیلیجنس ایجنسیوں نے مل کر مرتب کی ہے۔ اسے صدر بش کے اس بیان کے ایک ہی دن بعد جاری کیا گیا ہے جس میں انہوں نے عراقی وزیرِ اعظم نوری المالکی کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’وہ ایک اچھے آدمی ہیں جو ایک مشکل کام کررہے ہیں۔‘

عراق کا المیہ
ستمبر سے پہلے عراق امریکہ میں اہم موضوع
جرگہ سفارشات
کیا یہ سفارشات قابل عمل بھی ہیں؟
چودہ سالہ مصطفٰیمحنت کش بچے
’دوسرے بچوں کو کھیلتا دیکھ کر اچھا نہیں لگتا‘
امریکہ اسرائیل ڈیل
تیس ارب ڈالر کی دفاعی امداد اور خطے میں امن
افغان پناہ گزیناقوام متحدہ کی تنبیہ
’افغان جنگ بند نہ ہوئی تو مزید پناہ گزین‘
صدر بشصبر سے کام لیں
’فوج ہٹائی تو عراق ویتنام بن جائےگا‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد