 | | | عراق میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زیادہ امریکی فوجی تعینات ہیں۔ |
امریکہ میں حزبِ اقتدار ریپبلکن جماعت کے ایک اہم سینیٹر نے صدر بش پر زور دیا ہے کہ وہ اس برس کے آخر تک عراق سے پانچ ہزار امریکی فوجیوں کا انخلا ممکن بنائیں۔ سینیٹ آرمڈ سروس کمیٹی کے سابق چیئرمین سینیٹر جان وارنر نے کہا ہے کہ اگرچہ امریکی افواج کی وجہ سے عراق میں سیکیورٹی کی صورتِ حال بہتر ہوئی ہے لیکن اس سلسلے میں عراقی حکومت کی اپنی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اب یہ واضح کرنا چاہیے کہ وہ غیرمشروط طور پر عراق کے لیے ذمہ دار نہیں ہے اور کرسمس سے پہلے پانچ ہزار امریکی افواج کا انخلا عراقی حکومت کے لیے ایک واضح سگنل ہوگا۔ تاہم سینیٹر وارنر کا کہنا ہے کہ انخلا کے اوقاتِ کار کا تعین صدر کو ہی کرنا چاہیے نہ کہ سینیٹ کو۔ انہوں نے یہ بات امریکی انٹیلیجنس کی ایک حالیہ رپورٹ کے جاری کئے جانے کے بعد کہی جس میں کہا گیا ہے کہ عراقی رہنما حکومت کو چلانے میں ناکام ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری میں عراق میں امریکی افواج میں ’کچھ اضافے‘ کے بعد جزوی فوجی کامیابی ہوئی ہے تاہم عراقی سیکیورٹی فورسز اب بھی امریکی افواج کی مدد کے بغیر تحفظ یقینی نہیں بنا سکتیں اور سنی اور شیعہ تقسیم ابھی تک عدم استحکام کا سبب ہے۔ رپورٹ میں اگلے چھ سے بارہ ماہ میں صورتِ حال مزید بگڑنے کی پیشین گوئی بھی کی گئی ہے۔  | عراقی حکومت کے لیے سگنل   امریکہ کو اب یہ واضح کرنا چاہیے کہ وہ غیرمشروط طور پر عراق کے لیے ذمہ دار نہیں ہے اور کرسمس سے پہلے پانچ ہزار امریکی افواج کا انخلا عراقی حکومت کے لیے ایک واضح سگنل ہوگا۔  سینیٹر جان وارنر |
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایسے وقت پر جب عراق میں جنگ کے لیے امریکی رائے عامہ تقسیم ہے صدر جارج بش کی اپنی پارٹی کے ایک سینیئر سینیٹر کی طرف سے کہی جانے والی یہ بات دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ نیشنل انٹیلیجنس ایسٹیمیٹ نامی رپورٹ امریکہ کی سولہ انٹیلیجنس ایجنسیوں نے مل کر مرتب کی ہے۔ اسے صدر بش کے اس بیان کے ایک ہی دن بعد جاری کیا گیا ہے جس میں انہوں نے عراقی وزیرِ اعظم نوری المالکی کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’وہ ایک اچھے آدمی ہیں جو ایک مشکل کام کررہے ہیں۔‘ |