عراق اور امریکی مشکالات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طویل قامت اور بارعب شخصیت کے مالک پچھہتر سالہ تھامس پکرنگ امریکی خارجہ پالیسی کے ایک اہم رکن رہے ہیں۔ انہوں نے مشرق وسطی، روس اور اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ہیں اور اس کے بعد صدر کلٹن کے دور میں وہ نائب وزیر خارجہ کے عہدے تک پہنچے۔ عراق کے بارے میں ان کا تجزیہ انتہائی مایوس کن ہے۔ عراق میں خانہ جنگی جاری ہے جس میں امریکی ایک شریک بھی ہیں، پلیئر بھی ہیں اور اس کے متاثر بھی ہیں۔ پکرنگ امریکہ کی دونوں جماعتوں رپبلکن اور ڈیموکریٹ کو اس کا برابر کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں کہ وہ عراق میں امریکی فوج کی تعداد کے مسئلے میں الجھے ہوئے ہیں جبکہ اصل مسئلہ عراق میں گورنسنس یا حکمرانی کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عراق کو کمزور اور غیر مستحکم چھوڑ کر فوجوں کو واپس بلانے کا مطلب وہاں ہمسایہ ممالک کی مداخلت بڑھانا ہو گا۔
امریکی انتظامیہ موجودہ حالات کی تمام تر ذمہ داری القاعدہ پر عائد کر رہی ہے۔ ستمبر کے وسط میں عراق کی موجودہ حکمت عملی پر غور کیا جائے گا اور اس سے پہلے عراق پر گرما گرم بحث جا ری رہے گی۔ واشنگٹن میں قائم سینٹر آف سٹریٹجک اسٹڈیز کے جون آلٹرمین کے مطابق اس بحث میں بجائے اس کے کہ کس کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے اس بات پر ہو گی کہ کس چیزکو بہانہ بنایا جائے۔ ڈیموکریٹ جماعت کے ارکان کے لیے سب سے آسان بش انتظامیہ کو ذمہ دار قرار دینا ہے بجائے اس کے کہ وہ کوئی متبادل حل تجویز کریں۔ بش انتظامیہ عراق میں القاعدہ کے عناصر کو ذمہ دار قرار دیتی ہے۔ الٹر مین کے مطابق امریکی رویے میں ایک خطرناک تبدیلی یہ آ رہی ہے کہ انہیں اس بات کی پرواہ نہیں رہی کہ عراق میں عراقی کیا چاہتے ہیں۔ امریکی صدر جارج بش پر عراق میں اپنی پالیسی تبدیل کرنے کے بارے میں شدید دباؤ ہے اور یہ ستمبر کے بعد ناقابل برداشت حد تک بڑھ جائے گا۔ اس لیے متبادل یا ’پلان بی‘ کے بارے میں بہت باتیں کی جا رہی ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے صحافی ڈیوڈ اگناٹیس کا کہنا ہے کہ اگلے سال بہار کے موسم تک امریکی فوج کے لیے عراق میں اپنی موجود تعداد کو برقرار رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔
ان کے خیال میں وزیر دفاع رابرٹ گیٹس اس سال کے آخر تک فوج کی تعداد میں رسمی کمی کرنی شروع کر دیں گے۔ امید کی جارہی ہے اس سے فوج پر دباؤ میں بھی کمی ہو گی اور سیاسی طور پر یہ معاملہ ذرا پس منظر میں چلا جائےگا۔ واشنگٹن میں نوری المالکی کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ انہیں کمزور، فرقہ وارانہ جذبات رکھنے والا اور ایران کے قریب تصور کیا جاتا ہے۔ پکرنگ کے خیال میں عراق کو تباہی سے بچانے کے لیے شدید سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔ ان سفارتی کوششوں کے ذریعے تمام ہمسایہ کے ساتھ مل کر عراق کی سلامتی کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی تیار کی جانی چاہیے۔ اس کا مطلب ہو گا کہ اقوام متحدہ کو مزید موثر طور پر عراق کے معاملات میں ملوث کیا جائے، جو کہ اب سلامتی کونسل کی قرارداد میں بھی شامل کیا جارہا ہے۔ کیا عراق میں حالات اتنے خراب ہوچکے ہیں کہ جہاں سے انہیں بہتری کی طرف نہیں لایا جا سکتا۔ پکرنگ اس سوال کا جواب نہیں دیتے اور اسے ادھورا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||