عرب مرینزکا المیہ:فرض یا جذبات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج میں شامل کئی عرب امریکی عراق میں لڑائی کے آغاز سے ہی اپنے فرائض بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کا سیدھا سیدھا یہ خیال ہے کہ اپنے وطن کے لیےیہ ان کا فرض ہے۔ جبکہ ’دہشت گردی کےخلاف جنگ‘ میں محاذ پرعربوں اور مسلمانوں کےخلاف دشمن کی طرح لڑتے ہوئے کچھ فوجیوں کا ضمیر کشمکش میں مبتلا رہا۔ تین عرب امریکی مرینز نے اپنی کہانی یوں بیان کی۔ جمال بدانی جمال بدانی توپ خانے کے سرجنٹ ہیں اور واشنگٹن میں کوانٹیکومرین کاپ اڈے میں تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ’ایسوسی ایشن آف پیٹریوٹک عرب امیرکن ان دی ملٹری‘بھی قائم کی۔ یہ تنظیم انہوں نے گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد نسل پرستی کا شکار ہونے کے رد عمل میں بنائی تھی۔ ’میرے والدین کا تعلق یمن سے ہے ۔میں قاہرہ میں پیدا ہوا اور دس سال کی عمر میں امریکہ آیا ۔جب میں امریکہ آیا تو مجھے انگریزی نہیں آتی تھی لیکن شروع سے ہی فوج میں میری دلچسپی تھی1973 میں یوم کِپور جنگ کے دوران جو ماحول بنا اس میں مصری لوگوں میں حب الوطنی اور قوم پرستی کا جذبہ پیدا ہوااور یہ جذبہ تھا اپنے ملک اور قوم کی خدمت کا۔ جب میں مصر میں تھا تو مصری تھا، امریکہ میں رہا تو مجھے لگا اب یہی میرا وطن ہے۔ میرے والدین نہیں چاہتے تھے کہ میں فوج میں جاؤں۔ ایسا نہیں کہ وہ فوج کو برا سمجھتے تھے بلکہ وہ چاہتے تھے کہ میں ڈاکٹر، وکیل یا انجینیئر بنوں۔ میرے ایک انکل تھے جو تیس سالوں سے ایک کار کمپنی میں ملازم تھے۔ گیارہ ستمبر کے واقعہ کے بعد ایک دن انہوں نے مجھے فون کیا۔ وہ رو رہے تھےانہوں نے کہا کہ میں فوج کی وردی میں انہیں اپنی ایک تصویر بھیج دوں ان کہنا تھا: ’ میں اپنے ساتھیوں میں حب الوطنی کے اپنے جذبے کو ثابت کرنا چاہتا ہوں‘۔ ایک مرتبہ میں اپنے دو مرین ساتھیوں کے ساتھ کہیں گیا۔ میں اس وقت وردی میں تھا۔وہاں ایک عورت میرے پاس آئی اور اس نے کہا ’میں ملک اور قوم کی خدمت کرنے کے لیے تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں ‘۔ اس کے بعد اس عورت نے پوچھا کہ میرا تعلق کہاں سے ہے جب میں نے کہا مصر سے، تو اس عورت کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو گیا اور اس نے کہا ’تم دہشت گرد ہو‘حالانکہ میں اس وقت یونیفارم میں تھا‘۔ لیکن کئی مرتبہ ہمارے اپنے لوگ بھی ہمارے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’ہم کسی لائق نہیں کیونکہ ہم فوج میں کام کرتے ہیں‘۔ وہ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ہم ملک اور قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔ محمد خالِد محمد خالد کی ماں امریکی اور والد فلسطینی ہیں ۔اپنی تعلیم کا خرچ اٹھانے کے لیے وہ سن دو ہزار میں فوج میں شامل ہوئے اور تین سال بعد خود کو عراق میں پایا 2006 میں تین بچوں کو فائرنگ سے بچانے کی کوشش کے واقعہ کے بعد انہوں نے فوج کو چھوڑ دیا۔ اب وہ کار سیلز مین کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’میں ایک فلسطینی امریکی ہوں اور مجھے اس بات پر فخر ہے‘۔ بدقسمتی سے ہمارا دشمن مشرق وسطی میں ہے اور یہ دشمن میرے رشتے دار بھی ہیں۔
جب آپ فوج میں بھرتی ہوتے ہیں اس کے بعد سب کچھ تبدیل ہو جاتا ہے ۔وہاں جوانوں کو بھرتی کرنے والے مجھے اس کام کی یاد دلاتے ہیں جو میں اب کر رہا ہوں۔ میں آپ کو ایک کار فروخت کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، خواہ آپ کو پسند ہو یا نہیں میں چاہوں گا کہ آپ اس کار کو پسند کر لیں کیونکہ اس میں میرا فائدہ ہے۔ سچ یہ ہے کہ آپ کا ’برین واش‘ کیا جاتا ہے ۔آپ یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ آپ وہاں مدد کرنے کے لیے جا رہے ہیں۔ ’جب میں بچہ تھا تو میں ان بچوں میں سے ایک تھا جو اسرائیلیوں پر پتھر پھینکا کرتے تھے اور میں اس کام میں اتنا ماہر تھا کہ پتھر پھینکنے کے لیے مشہور ہو گیا اور مجھے اس پریشانی سے نکلنے میں میرے امریکی پاسپورٹ نے مدد کی‘۔ فوج میں نوکری کے دوران 2004 میں ہم عراق کے شہر حدیثہ میں تھے ۔گشت کے دوران ہم خاصے خوفزدہ تھے ،جیسے ہی ہم حدیثہ مڈل سکول کے سامنے سے گزرے اچانک ہم پر پتھراؤ شروع ہوگیا ۔پتھراؤ اتنا شدید تھا کہ میں بھی گھبرا گیااور ساتھ ہی جذباتی بھی کیونکہ جو بچے پتھراؤ کر رہے تھے ماضی میں میں بھی ان میں سے ایک ہوا کرتا تھا۔ ان میں سے ایک پتھر میرے دل پر جا کر لگا جس کا درد میں آج بھی محسوس کر سکتا ہوں۔ راجائی حقی راجائی حقی محمد خالد کے دوست ہیں۔ انہوں نے بھی 2003 سے 2006 کے دوران فوج میں کام کیا، ان کا تعلق شام کے ایک خوشحال گھرانے سے ہے۔
ان کا کہنا ہے :’میرے لیے یہ بات بہت سیدھی تھی کہ ہم عراق سے ایک تانا شاہ کو ہٹانے جا رہے ہیں‘۔ میں نے اپنے یونٹ سے کہا کہ میں عربی جانتا ہوں اس لیے میں بھی عراق جا کر اس جنگ کا حصہ بننا چاہتا ہوں، میں بھی لڑنا چاہتا تھا۔ اسلام میں ہمیں ایک اچھا شہری بننے کی ترغیب دی جاتی ہے اور ہم امریکی شہری تھے۔ اب یہ ہمارا ملک ہے ہمارے بچے یہاں پیدا ہوئے اور ہم یہیں مریں گے، اس ملک نے ہمارے خواب پورے کیے ہیں۔ عراق میں میں نے تفتیشی ٹیم کے ساتھ مترجم کے طور پر کام کیا۔کہتے ہیں کہ عراق میں موت کی بدبو آتی ہے اور واقعی ایسا ہی ہے۔ آپ کو متلی ہونے لگتی ہے، آپ کتوں کو گولی مارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کیو نکہ کبھی کبھی سڑکوں پر آپ کو کتوں کے منھ میں انسانی اعضاء نظر آتے ہیں۔ میں یہاں کسی کا دفاع نہیں کر رہا۔ بدقسمتی سے ہم کتنی بھی کوشش کریں کہ شہری نہ مارے جائیں پھر بھی لوگ مارے جاتے ہیں۔ ایک مرتبہ آپ نے کسی بچے اور پہلی عورت کو مرتے دیکھا اس کے بعد یہ ایک معمول کی بات لگتی ہے۔ میرے گھر والےشام کی انٹیلیجنس سے بہت خوفزدہ ہیں ۔میرے والد بلیک لسٹ کر دیے گئے ۔وہ واپس وطن نہیں جا سکتے ۔ مجھے ’قوم کا غدار ‘ قرار دے دیا گیا ہے اور اس بات سے بہت تکلیف ہوتی ہے کیونکہ کہ مجھے عرب دنیا اور اپنی جڑوں سے محبت ہے۔ کاش میں وطن واپس جا سکتا۔ | اسی بارے میں امریکی میرین کا مسلمان چہرہ20 June, 2007 | آس پاس فوجیوں کے لیے تاش کی گڈیاں19 June, 2007 | آس پاس عراق:کاربم دھماکوں میں چودہ ہلاک08 June, 2007 | آس پاس ’عراقی بچے بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں‘23 May, 2007 | آس پاس عراق: دو دن میں چودہ امریکی ہلاک21 June, 2007 | آس پاس عراق: خودکش بم دھماکہ 30 ہلاک13 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||