امریکی میرین کا مسلمان چہرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیوی کے لیفٹیننٹ کمانڈر ابو سیف الاسلام ہر ایک سے مسکرا کر ملتے ہیں اور انہیں ’امام سیف‘ کہلوانا اچھا لگتا ہے۔ سیف امریکہ کی معروف میرین کور میں کام کرنے والے واحد اور پوری امریکی بحریہ میں دوسرے مسلمان ’چیپلن‘ یا امام ہیں۔ ان کی کہانی وہی ہے جو زیادہ تر تارکین وطن کی ہوتی ہے۔ وہ انیس سو اسی کے عشرے کے آخر میں بنگلہ دیش سے امریکہ پہنچے اور ایم بی اے کی ڈگری کے ساتھ ان کے وہم و گمان بھی نہ تھا کہ وہ نیویارک کے تجارتی علاقے وال سٹریٹ کی بجائے نیوی میں ملازمت کریں گے۔ ’ جب میرے گھر والوں کو پتہ چلا کہ مجھے بحریہ کی طرف سے نوکری کی پیشکش ہونے والی ہے تو انکی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا۔‘ واشنگٹن ڈی سی سے ذرا دور اپنے نئے گھر میں بیٹھے انہوں نے بڑے فخر سے بتایا کہ ’ مجھے امیریکن ڈریم یا امریکہ کے خواب کی تعبیر مل گئی ہے۔‘ لیکن ایک ایسے فوجی کے طور پر کہ جو دوسرے مسلمانوں کے لیے مثال بن سکے، سیف کی زندگی کو ان کی خوبصورت کار، عمدہ باورچی خانے اور ورجینیا کے خوبصورت مضافات میں واقع نئے مکان میں بیٹھ کر نہیں سمجھا جا سکتا۔
اگرچہ امریکی افواج میں اس وقت ایک سو سے زیادہ مختلف عقائد کے لوگ خدمات سرانجام دے رہے ہیں لیکن ان مذاہب اور پینٹاگون کے درمیان رشتوں میں سے سب سے زیادہ نازک رشتہ اسلام اور پینٹاگون کے درمیان ہے۔ امام سیف اس نازک رشتے کی جیتی جاگتی مثال ہیں جو شاید لوگوں کو یہ باور کرا سکتے ہیں کہ ایک ہی وقت میں آپ اسلام اور امریکی فوج، دونوں کی خدمت کر سکتے ہیں۔ چند برس پہلے ان کے آنے سے قبل کوانٹیکو میں بحریہ کے بڑے اڈے پر مسلمان فوجیوں کے لیے نماز پڑھنے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ ان میں سے کچھ کبھی اپنی گاڑیوں کے پیچھے اور کبھی عمارت کے باہر اِدھر اُدھر رکوع و سجود کر لیتے تھے۔ تاہم اب ان کو ایک مسجد کی سہولت حاصل ہے جہاں ہر جمعہ کو درجنوں فوجی نماز پڑھتے ہیں۔ جمعہ کی نماز کے لیے اکٹھا ہونے والوں میں کئی قسم کے لوگ ہیں۔ ان میں مراکش کی فضائیہ کے ایک افسر بھی ہیں اور کئی خواتین فوجی بھی جو نماز سے پہلے پردے کے پیچھے جا کر اپنی فوجی وردی کی جگہ ٹخنوں تک لمبے کپڑے پہنتی ہیں۔ ایک خاتون ، جو کہ ملٹری پولیس میں ملازم ہیں، کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ انہیں کسی مسلمان ملک بھیجا جائے، مثلاً عراق یا افغانستان۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ ایسا کرنے میں مجھے صرف شدت پسندوں سے ڈر لگتا ہے جو وہاں لوگوں کو بتاتے ہیں کہ ہم غلط کام کر رہے ہیں۔ یہ لوگ ہمارے درمیان فرق کو ہوا دیتے ہیں حالانکہ اصل میں کوئی ایسا فرق ہے نہیں۔‘ حال ہی میں مشرق وسطیٰ سے لوٹنے والے ایک مصری نژاد فوجی نے بھی کچھ ایسےہی خیالات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام اور امریکی میرین دونوں کی اخلاقیات ایک ہی ہیں۔ ’عزت، بہادری اور اپنے مقصد کے ساتھ سچائی، اسلام بھی ہمیں یہی تین اصول سکھاتا ہے۔ ہمارا آپس میں وہی رشتہ ہے جو مسلمانوں میں ہوتا ہے یعنی سب بھائی ہیں۔‘ سیف الاسلام کا زیادہ تر وقت ورجینیا سے دُور گزرتا ہے جہاں وہ ان فوجیوں کو لیکچر دیتے ہیں جنہیں مشرق وسطیٰ میں امریکی محاذ جنگ پر جانا ہوتا ہے۔ زیادہ تر فوجی سیف الاسلام کو حیرت سے دیکھتے ہیں کیونکہ ان کی صورت میں وہ پہلی مرتبہ کسی مسلمان کو ملتے ہیں۔ سیف سے میری دوبارہ ملاقات ریاست ہوائی کی سکوفیلڈ کی چھاونی میں ہوئی۔ وہ ایک تاریک ہال میں بیٹھے ہوئے سینکڑوں فوجیوں کو ایک ایسے مذہب کی بنیادی چیزوں کے بارے میں بتا رہے تھے جسکی تصویر کشی زیادہ تر ملکی ذرائع ابلاغ برے انداز میں کرتے ہیں۔ سیف نے اپنے لیکچر میں جو باتیں بتائیں وہ مذہبی کی بجائے زیادہ تر عملی نوعیت کی تھیں۔ انہیں معلوم ہے کہ فوجیوں کو کتنا بتایا جا سکتا ہے۔ سیف الاسلام نے حاضرین کو بتایا کہ شیعوں اور سنیوں کے درمیان فرق کی کوئی مذہبی بنیاد نہیں، تاہم جب آپ کسی اسلامی ملک میں جائیں تو اس بات کا لحاظ رکھنا بہرحال ضروری ہے۔ سیف جانتے ہیں کہ عرب دنیا میں زیادہ تر لوگ امریکی فوج اور عراق پر قبضے کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن وہ اپنے ساتھیوں اور دیگر ناقدین کو ایک بات مد نظر رکھنے کی درخواست کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’سارے اسلام کو ایک نظر سے دیکھنا اور اس کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنا غلط ہے۔ اسی طرح عربوں کو بھی چاہیے کہ وہ تمام امریکیوں کو ایک ہی نظر سے نہ دیکھیں۔ یہ ممکن ہے کہ امریکی عوام کی اکثریت ان چیزوں کی حمایت نہیں کرتی جو فوجی محاذ جنگ پر کرتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں اپنے ملک سے محبت نہیں۔‘ سیف الاسلام کی سفارتی صلاحیتیوں کا سب سے بڑا امتحان اس وقت آیا جب وہ پہلے مسلمان امام کے طور پر جزیرہ گوانتانامو پہنچے۔ وہاں اپنے تین ماہ کے قیام کے دوران انہوں نے اذان کی روایت متعارف کرائی اور عملے سے کہا کہ وہ قیدیوں کے ساتھ بہتر سلوک کیا کرے۔ اس بارے میں کوئی شک نہیں تھا کہ سیف گوانتانامو میں جو بھی کر رہے تھے اس کے احکامات انہیں انکے کمانڈنگ افسر نے دیے تھے۔ ’ہم سب متفق تھے کہ میں قیدیوں سے اپنی فوجی وردی میں ملوں گا۔ کچھ قیدیوں نے مجھے کبھی بھی قبول نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں شیطان ہوں اور اپنے مذہب کی بنیادی تعلیمات کے منافی کام کر رہا ہوں۔ مجھے پتہ تھا کہ ان کی اِن باتوں کی بنیاد کیا تھی، اور سچ بات تو یہ ہے کہ اپنے اسی قسم کے خیالات کی وجہ سے وہ گوانتانامو پہنچائے گئے تھے۔‘ سیف الاسلام کے مطابق گوانتانامو کا بہرحال ایک مقصد تھا، لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ صدر جارج بُش بھی ماضی میں اس خواہش کا اظہار کر چکے ہیں کہ اسے بند کر دینا چاہیئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||