BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 August, 2007, 02:48 GMT 07:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سفارشات کیا قابل عمل ہیں؟

سفارشات میں دہشت گردی کا لفظ شامل ہے
پاک افغان مشترکہ امن جرگے میں منظور ہونے والی سفارشات سفارتی اعتبار سے خوش کن ہوں مگر ان پر عمل ایک مشکل مرحلہ ہوگا۔ اور اس کا ایک سبب وہ ابہام ہے جو دنیائے سفارت کا خاصا ہے۔

مثلاً اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان اور افغانستان کی دفاعی پالیسی کا لازمی حصہ ہوگی۔ خود جب افغان جرگے کے نمائندے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے پوچھا گیا کہ ان کے نزدیک دہشت گردی کی تعریف کیا ہے تو ان کا جواب تھا: ’عالمی سطح پر دہشتگردی کی کوئی متفقہ تعریف موجود نہیں۔ مگر سب جانتے ہیں دہشتگرد کون ہے۔‘

جرگے کے آخر میں جاری کیے گئے اعلامیہ کا یہ پہلا نکتہ ہے۔ جس کا مرکزی لفظ ’دہشتگردی‘ ہے۔ اور حکام کے پاس اس کی واضح تعریف نہیں۔ محض یہ کہہ دینا کہ سب جانتے ہیں شاید کافی نہ ہو۔ کیونکہ ایسے میں ’طاقتور‘ اپنی توضیح کرے گا اور مخالف پر دہشتگرد ہونے کا لیبل چسپاں کرکے اپنے مفادات کی راہ میں حائل رکاوٹ کو آسانی سے دور کر لے گا۔ ظاہر ہے یہ مسئلہ کا حل نہیں۔ جیسا کہ صدر جنرل مشرف نے جرگے کی اختتامی تقریب میں خبردار کیا تھا کہ طاقت کا بے جا استعمال لوگوں کو متنفر کرتا ہے۔

اسی طرح اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ایک ’جرگیئے‘ یعنی چھوٹا جرگہ مخالفین سے مصالحت کے لیے جاری عمل کو فروغ دے گا۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی نیا عمل شروع نہیں کیا جائے گا۔ پیر صبغت اللہ مجددی کی سربراہی میں ایک مصالحتی کمیشن پہلے ہی کام کر رہا ہے۔ طالبان کو مرکزی قومی دھارے میں لانے میں اس کی کامیابی اب تک قابل ذکر نہیں۔ اگر جرگئیے کو بھی اس عمل کا حصہ بنا دیا جائے تو اس کی مصالحتی کوششوں کے شروع ہونے سے پہلے ہی رائیگاں جانے کے احتمال کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

جہاں فضائی بمباری میں بے گناہ شہری ہلاک ہوتے ہوں اور جس ملک کا صدر بمباری کرنے والوں کے سامنے جھولی پھیلانے کے سوا کچھ نہ کر سکے وہاں عوام زندگی کا مقصد کھو بیٹھتے ہیں۔ خاص طور پر پشتون معاشرے میں تو بالعموم انتقام کو ہی عزت اور ذلت کا معیار سمجھا جاتا ہے۔ لوگ طعنے کے ڈر سے بہت کچھ کر گزرتے ہیں۔ مجھے یاد نہیں یہ کس کا قول ہے کہ اچھے اور برے انسان پیدا نہیں بلکہ معاشرہ انہیں نیک و بد بناتا ہے۔

جب ایک بچے یا نوجوان کو پتہ چلتا ہے کہ اس کے باپ، بھائی یا ماں کو کس نے بے گناہ ہلاک کیا تو پھر اس کے سامنے بڑے بڑے دانشوروں کے دلائل اور مفتیوں کے فتوے بے معنی ہوجاتے ہیں۔ جو معاشرہ اس کے پیاروں کی جان کی حفاظت نہیں کرسکتا وہ اس کے لیے قابل نفرت ٹھہرتا ہے۔

متاثرہ علاقوں میں پوست کی کاشت کو دہشتگردی میں اضافے کا ایک سبب بتایا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ افیم پیدا تو افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہوتی، مگر اس سے ہیروئن کہاں بنتی ہے؟ اور پھر وہ یورپ کے شہروں تک کیسی پہنچتی ہے؟ راستے میں اس کا سدِباب کیوں نہیں کیا جاتا۔

یقیناً جرگیئے کے ارکان اسی طرح کے دوسرے مسائل پر غور کرکے ان کا کوئی حل نکال لیں گے اور ممکن ہے کہ آئندہ مشترکہ امن جرگے سے پہلے وہ کوئی قابل عمل منصوبہ بھی بنا لیں گے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس پر عملدرآمد دونوں حکومتوں کا غیرمشروط اخلاص ضروری ہوگا۔

ان تمام معروضات کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ جرگہ فیل ہوگیا ہے۔ جرگہ آغاز اچھا ہے بس ذرا ذاتی مفادات کو ایک طرف رکھنا ہوگا۔

اسی بارے میں
ان گِلے شکووں کا کیا ہوا
12 August, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد