’دہشت گردی دونوں ملکوں کے لیے خطرہ ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کابل میں منعقد ہونے والے پاک افغان جرگے کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی سے پاکستان اور افغانستان دونوں کو خطرہ ہے۔ کابل میں طے پانے والے اعلامیے کے مطابق ’مشترکہ جرگہ شدت سے اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ دہشت گردی دونوں ملکوں کے لیے مشترکہ خطرہ ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ دونوں ملکوں کی قومی اور سکیورٹی پالیسیوں کے اہم حصے طور پر جاری رہنی چاہیے۔‘ جرگے کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے طالبان سے نمٹنے کے لیے دونوں ملکوں کی طرف سے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ جرگے میں شرکت سے قبل صدر مشرف افغانستان کے اپنے ہم منصب حامد کرزئی سے مذاکرات کیئے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے خطاب میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی عدم اعتماد کو خطرناک قرار دیا اور کہا کہ الزام تراشی سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ انہوں نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ اس شک میں مبتلا نہ ہو کہ پاکستان ان کے ملک میں خرابی چاہتا ہے۔ پاکستان کے صدر نے کہا کہ ’غلط فہمیوں پیدا کرنے میں بعض دفعہ بیرونی ہاتھ ہوتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کا مستقبل ایک دوسرے سے وابستہ ہے‘۔ انہوں نے پاک افغان بہتر تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں یقین دلاتا ہوں کہ جو باتیں میری زبان سے نکلیں گی وہی میرے دل و دماغ میں بھی ہیں۔ پاکستان افغانستان کا دوست بن کر رہنا چاہتا ہے اور افغانستان کو کنٹرول کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا ہو گا ورنہ معاملہ آگے نہیں بڑھ پائے گا‘۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے خطاب میں اس بات کا اعتراف کیا کہ افغان طالبان کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حمایت حاصل ہے لیکن انہوں نے اس کی بنیادی وجہ اسّی کی دہائی میں افغانستان اور روس کو قرار دیا۔ صدر کا کہنا تھا کہ ’مجھے اپنی ذمہ داری کا پوری طرح احساس ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں انتہا پسندی کا بہت زیادہ اثر ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہمارے علاقوں سے آپ کے علاقوں میں طالبان کو سپورٹ مل رہی ہے۔ پاکستانی حکومت قبائلی علاقوں میں شدت پسندی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا: ’اس سلسلے میں دونوں ملکوں کو مل کر مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے لیکن طاقت کا بے جا استعمال مسئلے کی شدت میں مزید اضافہ کرے گا اس لیے ہمیں دانشمندی اور مستقل مزاجی سے کام لینا ہو گا‘۔ صدر مسشرف کا کہنا تھا کہ ’خطے کی ترقی اس بات میں مضمر ہے کہ ہم اپنے خطے کو دنیا کے لیے کھول دیں۔ پاکستان افغانستان کو بندرگاہیں دے گا اور دنیا کے لیے راستہ دے گا‘۔ افغان صدر حامد کرزئی نے اپنے اختتامی خطاب میں صدر جنرل پرویز مشرف سمیت جرگے کے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ جرگہ خطے میں امن کی قیام کی طرف سنگِ میل ثابت ہو گا۔ اس سے قبل صدر مشرف کے امن جرگہ میں شرکت نہ کرنے کی خبر سے بعض مندوبین نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کی نیت پر شک کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ گیارہ ماہ سے جرگے کے انعقاد کی کوششیں جاری تھیں اور جب وقت آیا تو صدر مشرف نے خود شرکت کی بجائے وزیر اعظم شوکت عزیز کو بھجوا دیا۔ گزشتہ روز جرگے کے حوالے سے ہونے والی پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سوالات بھی زیادہ تر صدر مشرف کی عدم شرکت کے گرد گھومتے رہے۔
یاد رہے کہ پاکستانی دفترِ خارجہ نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ صدر مشرف نے کابل میں جاری انسداد دہشت گردی کانفرنس میں شرکت کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پاکستانی وزارتِ خارجہ کے اعلان سے قبل افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے جمعہ کی شام صدر مشرف سے فون پر رابطہ کیا تھا۔ دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ ’صدر کرزئی نے صدر مشرف سے کہا کہ ان کی ذاتی شرکت جرگے کے عمل کو جاری رکھنے میں تعاون اور حوصلہ افزائی کا ذریعہ ثابت ہو گی۔ ‘ ابتدائی پروگرام کے مطابق صدر مشرف کو جرگے کے جمعرات کو ہونیوالے افتتاحی اجلاس میں شریک ہونا تھا لیکن بعد ازاں اسلام آباد میں بعض ’اہم مصروفیات‘ کے باعث ان کی روانگی منسوخ کر دی گئی تھی۔ نو اگست کو شروع ہونے والا امن جرگہ گیارہ اگست کو اختتام پذیر ہونا تھا لیکن منتظمین نے بعد میں ایک دن بڑھا دیا اور یوں اب یہ اتوار کو ختم ہوگا۔ |
اسی بارے میں جرگے میں طالبان کی عدم شرکت08 August, 2007 | پاکستان مشرف جرگے میں نہیں جائیں گے08 August, 2007 | پاکستان کابل جرگے کے سامنے کئی سوالات08 August, 2007 | آس پاس اراکین پارلیمان بھی شرکت سے منکر05 August, 2007 | پاکستان پاک افغان لویا جرگہ اگست میں04 May, 2007 | آس پاس سرحد کے آرپار پختونوں کا جرگہ 08 October, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||