BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشرف حکومت کا ترجمان نہیں‘

شان میک کورمک
حامد کرزئي سمجھتے ہیں کہ صدر پرویز مشرف کی ملک میں موجودگی ضروری ہو گی: ترجمان
امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں محکمۂ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ وہ مشرف حکومت کے ترجمان نہیں ہیں۔

یہ بیان بدھ کو ترجمان شان میک کورمک نے اس وقت دیا جب ان سے دفتر خارجہ کی روزانہ بریفنگ میں پاکستان افغانستان گرینڈ جرگے میں جنرل پرویز مشرف کی عدم شرکت کے فیصلے پر بار بار سوالات کیے جا رہے تھے۔

بریفنگ میں صحافیوں کی طرف سے سب سے زیادہ پوچھے جانے والے سوالات کابل میں افغانستان اور پاکستان کے درمیاں پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے شرکت نہ کرنے کے اعلان کے متعلق تھے۔

ایک صحافی نے جب پوچھا کہ کیا امریکی انتظامیہ چاہتی تھی کہ جرگے میں شرکت نہ کرنے کی بجائے صدر مشرف ملک میں موجود رہیں، تو شان میک کورمیک نے کہا کہ صدر حامد کرزئي سمجھتے ہیں کہ صدر پرویز مشرف کی ملک میں موجودگی ضروری ہو گی جس وجہ سے وہ گرینڈ جرگہ میں شرکت نہیں کرسکتے۔ مذکورہ بریفنگ امریکی محکمۂ خارجہ کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہے۔

گرینڈ جرگے میں جنرل پرویز مشرف کی عدم شرکت کے بارے میں سوالوں کے جواب دیتے ہوئےترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی طرف سےگرینڈ جرگے میں وزیراعظم شوکت عزیز شرکت کر رہے ہیں جبکہ صدر کرزئي سمجھتے ہیں پاکستان کے حالات کے پیش نظر کہ صدر پرویز مشرف کا ملک میں موجود رہنا بہت ضروری تھا۔

ترجمان نے کہا کہ اگر صدر پرویز مشرف کا ملک میں موجود رہنا ضروری نہ ہوتا تو وہ گرینڈ جرگے میں شرکت کرنے ضرور افغانستان جاتے۔

بریفنگ میں کئي صحافی ترجمان سے صدر حامد کرزئي اور صدر مشرف کے درمیاں جرگے کے بارے میں بات چیت کے وقت کے متعلق بھی پوچھتے رہے جبکہ ایک صحافی نے پوچھا کہ انہیں صدر پرویز مشرف کی طرف سے گرینڈ جرگے میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کے بارے میں کب معلوم ہوا۔

بریفنگ میں کچھ صحافیوں نے سوالات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی صدر نے گرینڈ جرگہ میں نہ شرکت کرنے کا فیصلہ کر کے اس کے مقاصد کی اہمیت کم کر دی ہے۔

بریفنگ کے دوران جرگے میں وزیرستان کے وفد کی عدم شرکت کے متعلق بھی سوالات پوچھے گئے۔ سوالات پوچھنے والوں کا کہنا تھا کہ پاکستان کے شورش زدہ قبائلی علاقے وزيرستان کے وفد کی عدم شرکت گرینڈ جرگے کے مقصد کو ختم کر دیتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد