BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 August, 2007, 09:55 GMT 14:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
درّہ آدم خیل میں کشیدگی برقرار

فائل فوٹو
امن مذاکرات کے لیے آنے والے عمائدین پر بھی فائرنگ کی اطلاع ملی ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے درّہ آدم خیل میں گزشتہ روز مقامی طالبان اور ایک مسلح گروپ کے مابین جھڑپوں کے بعد حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ مقامی طالبان درہ بازار اور اردگرد کے پہاڑی علاقوں میں مورچہ زن ہیں اور مخالف فریق کے ٹھکانوں پر حملے کر رہے ہیں۔

پشاور کے جنوب میں تقریباً تیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع درّہ آدم خیل بازار سے بدھ کو ملنے والی اطلاعات میں مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ پشاور درّہ آدم خیل مرکزی شاہراہ آج دوسرے روز بھی بند ہے جس کی وجہ سے سڑک کے دونوں جانب سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئی ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ درّہ بازار میں قائم تمام دوکانیں اور مارکیٹیں مکمل طور پر بند ہیں جبکہ اسلحے کے کارخانوں میں کام کرنے والے ملازمین فیکٹریاں چھوڑ کر گھروں کو چلے گئے ہیں۔

منگل کو علاقے میں ایک مبینہ اغواء کار گروہ کے مسلح افراد نے مقامی طالبان کے ایک گروپ پر دستی بموں اور دیگر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا جس کے بعد دونوں گروپوں کے مابین شدید شدید لڑائی کی اطلاعات مل رہی ہیں۔

ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ کل سے علاقے میں فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے لوگ گھروں کے اندر محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔ تمام بازار اور تعلیمی ادارے بند ہیں اور علاقے میں کرفیو جیسی صورتحال ہے۔ ان کے مطابق نقاب پوش طالبان جنگجوؤں نے علاقے کو گھرے میں لیا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقامی طالبان نے ارگرد کے پہاڑوں پر مورچے بنارکھے ہیں جہاں سے وہ مخالف فریق امیر سید عرف چرگ کے قاسم خیل قبیلے کے گاؤں ’چرگان‘ پر راکٹ لانچر اور میزائلوں سے حملے کررہے ہیں۔

فائل فوٹو
مقامی طالبان اردگرد کے پہاڑوں میں مورچہ زن ہیں

دوسری طرف مبینہ جرائم پیشہ افراد بھی مسلسل مزاحمت کررہے ہیں جس سے علاقے میں سخت کشیدگی کی صورتحال ہے۔

آج صبح میزائل گرنے کے ایک تازہ واقعہ میں ایک بچے کی ہلاکت اور چار دیگر افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بازار میں سکیورٹی فورسز کا کوئی اہلکار دکھائی نہیں دے رہا ہے جبکہ بازار میں واقع زرغون چیک پوسٹ سے بھی خاصہ دار اور ملیشا فورسز کے اہلکار چلے گئے ہیں۔
اس سلسلے میں مقامی انتظامیہ کا مؤقف جاننے کے لیے ضلعی رابطہ افسر کوہاٹ، اے پی اے ایف ار درّہ آدم خیل اور دیگر اہلکاروں سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی مگر کامیابی نہیں ہوسکی۔

ادھر گزشتہ روز ایف ار کوہاٹ کی انتظامیہ نے مقامی مشران اورعلماء کرام پر مشتمل دو الگ الگ جرگے طالبان جنگجوؤں سے مذاکرات کے لیے بھیجے تھے تاہم جنگجوؤں کا مطالبہ ہے کہ جب تک حملہ آور ان کے حوالے نہیں کیے جاتے وہ بازار کا محاصرہ نہیں چھوڑیں گے۔

بدھ کی صبح ایف ار پشاور کا ایک جرگہ فریقین سے مذاکرات کے لیے علاقے میں پہنچ گیا ہے تاہم ان پر بھی فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔

گزشتہ روز سے کوہاٹ پشاور مرکزی شاہراہ بند ہونے کی وجہ سے پشاور کا جنوبی اضلاع سے رابطہ کٹا ہوا ہے جبکہ لوگ پشاور پہنچنے کے لیے نظام پور، چراٹ اور راولپنڈی روڈ استعمال کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پیر کو نامعلوم افراد نے ایک مبینہ اغواء کار گروہ کے سرغنہ امیر سید عرف چرگ (مرغ) کو فائرنگ کرکے قتل کیا تھا۔ چرگ کے ساتھی اس قتل کا شبہ مقامی طالبان پر ظاہر کر رہے تھے۔

گزشتہ کچھ ماہ سے مقامی طالبان نے درّہ آدم خیل میں جرائم پیشہ اور چرس افیون فروخت کرنے والے لوگوں کے خلاف متعدد بار کارروائیاں کی ہیں جس سے علاقے میں منشیات کا کاروبار ختم ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ اغواء اور دیگر جرائم میں ملوث گروہوں کو بھی طالبان کی طرف دھمکیاں ملی تھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد