BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 August, 2007, 01:55 GMT 06:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ماضی کی تلخیاں بھلانا ضروری ہے

پاک افعان جرگہ
بعض مقررین سے نہیں رہا گیا اور شکووں کی صورت کچھ الزامات کا اظہار کر ہی ڈالا۔
پاک افغان مشترکہ امن جرگہ کے پہلے دو روز افغان صدر حامد کرزئی اور پاکستانی وزیراعظم شوکت عزیز سمیت چوبیس مقررین نے خطاب کیا جن میں زیادہ تر نے ایک یا دوسرے انداز میں تین باتوں کی تکرار کی۔

پہلی بات یادِ ماضی

تقریباً سب ہی مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور افغانستان میں جاری شدت پسندی کی لہر ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ملکوں کے حکام ماضی کی تلخیاں اور گلے شکوے ایک بھاری پتھر کے نیچے دبا دیں۔ مستقبل پر نظر رکھیں کہ راکھ کریدنے سے چنگاریوں کے بھڑک اٹھنے کا احتمال ہے۔ پشتو کی ایک کہاوت ہے: ’ماتے در پاتے، خو، چہ نورے نکے ماتے‘ یعنی جو زیاں ہوا سو ہوا، آگے خیال رکھو۔

دوسری بات گِلے شکوے

بعض مقررین سے نہیں رہا گیا اور شکووں کی صورت کچھ الزامات کا اظہار کر ہی ڈالا۔ ایک افغان خاتون مقرر نے بڑی اچھی تقریر کی مگر آخر میں ان کا ضبط بھی جواب دے گیا۔ تاہم انہوں نے صرف اس پر اکتفا کیا کہ ان کا دل شکووں سے بھرا ہوا ہے مگر اس وقت وہ امن اور آشتی کی بات کرنے آئی ہیں۔ پاکستان میں ایم ایم اے کے راہنماؤں مولانا فضل الرحمان اور مولانا سمیع الحق کا ذکر کئی بار آیا۔ چند افغان مقررین کا انداز مذمتی تھا جبکہ دوسرے مقررین کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے وہ اگلے جرگے میں شریک ہوجائیں۔
گلہ بھی تو اپنوں ہی سے کیا جاتا ہے۔

تیسری بات ذکرِ اقبال

اکابرین میں جن لوگوں کا ذکر ہوا ان میں سید جمال الدین افغانی، خوشحال خان خٹک، میر وائس اور پختوں تاریخ کے دوسرے بڑے نام شامل ہیں۔ ایک آدھ مقرر نے دوسرے مشہور لوگوں کے اقوال بھی دہرائے۔ مگر سب سے نمایاں ذکر علامہ اقبال کا رہا۔ سب نے نہیں تو اکثریت نے اپنی تقریر میں علامہ اقبال کے مختلف اشعار کا حوالہ دیا، بالخصوص ان اشعار کا جو علامہ نے افغانوں کی شان میں کہے تھے۔

شوکت عزیز کے فارسی لب و لہجہ پر میڈیا سینٹر میں بعض افغان صحافی مسکرائے بغیر نہ رہے سکے۔

پاکستانی وزیراعظم شوکت عزیز کی تقریر اگرچہ انگریزی زبان میں تھی جس پر بعض پاکستانی شرکاء نے ناپسندیدگی کا اظہار بھی کیا۔ جانے انہوں نے انگریزی میں تقریر کرنے کا فیصلہ اپنی لسانی سہولت کے مطابق کیا تھا یا پھر کئی دہائیوں پہلے مشرقی پاکستان کی ڈھاکہ یونیورسٹی میں اردو میں تقریر کا انجام ان کے پیش نظر رہا اور انہوں نے مصلحت سے کام لیا۔ بہرحال وجہ جو بھی ہو شوکت عزیز سے بھی علامہ اقبال کی اس فارسی نظم کے اشعار سنائے بِنا نہ بنی جس میں علامہ نے افغانستان کو ایشیا کا دل کہا ہے۔ علامہ کہتے ہیں کہ اگر افغانستان میں سکون ہے تو ایشیا سکون سے ہے اور اگر افغانستان کو آرام نہیں تو پھر کوئی چین سے نہیں رہ سکتا۔

شوکت عزیز کی انگریزی تقریر خاصی سبک رفتار تھی اس پر طرّہ یہ کہ اس کا پشتو ترجمہ بھی ساتھ ساتھ اسی رفتار سے کیا جا رہا تھا۔ میری طرح کئی صحافیوں نے بیک وقت انگریزی اور پشتو میں کہی باتوں کو سمجھنے کے لیے اپنے ذہنوں کو کبھی ایک تار اور کبھی دوسری تار پر لگانے کی کوشش کی مگر پھر دماغ کی برقی رو میں خلل آگیا۔ شاید وہ اپنی بات سننے والوں کو سمجھانے کے خواہاں نہیں تھے۔ ویسے بھی انہیں عجلت میں صدر مملکت کے حکم کو بجالانا پڑا تھا کیونکہ جنرل مشرف نے انتہائی اہم نجی مصروفیات کی وجہ سے اچانک جرگہ کے افتتاحی اجلاس میں شرکت سے معذوری ظاہر کر دی تھی۔ خیر یہ رفتار اس وقت کچھ نارمل ہوئی جب وہ علامہ کے مذکورہ فارسی اشعار پر آئے۔ ان کے فارسی لب و لہجہ پر میڈیا سینٹر میں بعض افغان صحافی مسکرائے بغیر نہ رہے سکے۔

سنا تھا فارسی بڑی شیریں زبان ہے مگر پاکستانی وزیراعظم کی زبان سے فارسی میں اشعار سننے کے بعد خیال آیا کہ اس فقرے میں تصحیج کی ضرورت ہے۔ یعنی: فارسی بڑی شیرین زبان ہے۔۔۔اگر فارسی گو کی زبان سے۔

پاک افغان جرگہبدلا بدلا کابل
اور شہر کی سڑکوں پر اکیلا پاکستانی
کابل جرگہ محبوب اور کالی لکیر
پشتون سرحد کو کالی لکیر کہتے ہیں
اسی بارے میں
’ذرا سنبھل کے!‘
09 August, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد