’عراق ویتنام بن جائےگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے خبردار کیا ہے کہ عراق سے امریکی افواج کی واپسی پر ویسی ہی تباہی ہو سکتی ہے جیسا کہ ویتنام سےامریکی فوج کی واپسی پر جنوب مشرقی ایشیا میں دیکھنے میں آئی تھی۔ کینسس سٹی مسوری میں سابق فوجیوں کے کنوینشن سےخطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ویتنام سےامریکی افواج کی واپسی کی قیمت لاکھوں بےگناہ شہریوں کو چکانی پڑی تھی۔جارج بش نے کہا کہ ویتنام کی جنگ نے جو سبق سکھایا ہے اس کو دیکھتے ہوئے امریکہ کو عراق میں صبر سے کام لینا ہوگا۔ اپنی اس تقریر کا آغاز جارج بش نے ایسے کچھ اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کیا جن کے تحت امریکہ کئی تنازعوں سے دور رہنے میں کامیاب رہا اور خاص طور پر جاپان کا ذکر کیا جسے امریکہ اپنے دشمن سے اتحادی بنانے میں کامیاب رہا۔ انہوں نےعراق سے افواج کی واپسی کی اپیلوں کا موازنہ 1975 میں ویتنام جنگ کے بعد کے واقعات سے کیا ان کا کہنا تھا کہ ’ کئی لوگوں کی دلیل تھی کہ اگر ہم ویتنام سے باہر آجائیں تو کچھ نہیں ہوگا لیکن دنیا نے دیکھا کہ اس کی کتنی بڑی قیمت چکانی پڑی۔ اس سلسلے میں انہوں نےویتنام میں امریکی اتحادیوں کے ساتھ ہونے والےسلوک، ویتنامی پناہ گزینیوں کے مسائل اور پول پاٹ کھمیرروج کے دور میں ہونے والے قتلِ عام کا حوالہ دیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ عراق میں ایک خطرہ اور بھی ہے اور وہ یہ کہ فوج کی واپسی القاعدہ کی جیت کی علامت ہوگا۔
صدر بش کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ اورعراقی وزیراعظم نوری مالکی کے درمیان بظاہر اختلافات کی خبریں آ رہی ہیں جارج بش نے کہا کہ ’مسٹر نوری ایک اچھے انسان ہیں جنہیں بہت مشکل ذمہ داری سونپی گئی ہے‘۔ اس سے کچھ دیر قبل عراقی وزیراعظم نے اپنے کام کے بارے میں امریکی تنقید کو ’غیر مہذب‘ کہا تھا۔ ان کے اس بیان کے جواب میں وائٹ ہاؤس نے نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر بش کے خیال میں عراق کی قیادت کے لیےمسٹر مالکی ہی درست رہنما ہیں۔ بی بی سی کے عالمی امور کے نامہ نگار نک چائلڈز کا کہنا ہے کہ جارج بش کی تقریر سے اس تنازعہ کو مزید ہوا ملے گی کہ آیا وہ ویتنام جنگ سے صحیح سبق حاصل کر رہے ہیں یا غلط۔ نامہ نگار کے مطابق رائےعامہ کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ کئی امریکی اس جنگ کو اس نظر سے نہیں دیکھتے جارج بش اپنے ملک میں ان بڑے موضوعات پر بہت زور و شور سے بول رہے ہیں کیونکہ انہیں کئی سیاسی مسائل کا سامنا ہے اور ان کے عہدے کی مدت ختم ہونے میں تقریباً اٹھارہ ماہ رہ گئے ہیں۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اب یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کے جانشین اس مسئلے کو اسی تاریخی اور نظریاتی پسِ منظر میں دیکھیں گے۔ | اسی بارے میں ’عراق میں مقامی سطح پر پیش رفت‘ 18 August, 2007 | آس پاس عراق اور امریکی مشکالات14 August, 2007 | آس پاس عراق خود کش دھماکے ایک سو پچہتر ہلاک14 August, 2007 | آس پاس آٹھ اتحادی فوجیوں کی ہلاکتیں12 August, 2007 | آس پاس عراق: سیاسی بحران کےحل کی کوششیں19 August, 2007 | آس پاس نئی قرارداد سے سیاسی ڈیڈ لاک ٹوٹےگا؟11 August, 2007 | آس پاس بغداد حملے میں سات افراد ہلاک19 August, 2007 | آس پاس عراق:گورنر دھماکے میں ہلاک20 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||