بغداد حملے میں سات افراد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے سکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ بغداد کے مشرقی شیعہ اکثریتی علاقے میں ایک مارٹر حملے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور اکتیس زخمی ہو گئے ہیں۔ بغداد کے صدر سٹی علاقے کے قریب ہونے والے اس مارٹر حملے سے کئی مکانات کو نقصان پہنچا ہے اور ہلاک و زخمی ہونے والوں میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مارٹر گولے امریکی فوج اور مزاحمت کاروں کے درمیان جھڑپوں دوران پھینکے گئے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب ملک میں سیاسی بحران کے حل کے لیے عراقی رہنماؤں کے مذاکرات جاری ہیں۔ عراق میں بی بی سی ورلڈ کے نمائندے مائیک ووڈرج کا کہنا ہے کہ عراقی کابینہ کی نصف سے زائد نشستیں خالی ہو جانے کے بعد پچھلے دو ماہ میں یہ اپنی نوعیت کے پہلے سیاسی مذاکرات ہیں۔ ہفتے کے دن ان مذاکرات میں اس وقت پیش رفت ہوئی جب ملک کے سنّی نائب صدر طارق الہاشمی نے الزمات کے بغیر جیلوں میں موجود قیدیوں کا مسئلہ اٹھایا۔ کہا جا رہا ہے کہ ایسے قیدیوں کی اکثریت کا تعلق سنّی فرقے سے ہے۔ نائب صدر کی پارٹی سنّی فرقے کے اس سیاسی گروہ کا حصہ ہے جس نے جیلوں کے مسئلے پر اپنے وزراء کو حکومت سے الگ کر لیا ہے۔ عراقی صدر جلال طالبانی نے ہفتے کے روز مذاکرات کے پہلے دور کو اپنی صدارت کے دوران ہونے والے اہم ترین مذاکرات قرار دیا تھا۔ |
اسی بارے میں ’عراق میں مقامی سطح پر پیش رفت‘ 18 August, 2007 | آس پاس عراق دھماکوں میں ڈھائی سو ہلاک15 August, 2007 | آس پاس عراق: نیا امریکی فوجی آپریشن14 August, 2007 | آس پاس آٹھ اتحادی فوجیوں کی ہلاکتیں12 August, 2007 | آس پاس عراقی حکومت کو شدید دھچکا07 August, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||