عراق دھماکوں میں ڈھائی سو ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے شمالی شہر موصل کے قریب منگل کو دو دیہات میں ہونے والے چار کار بم حملوں میں ہلاک شدگان کی تعداد کم از کم ڈھائی سو ہو گئی ہے جبکہ امدادی کارکن ملبے سےمزید لاشوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ صدام حکومت کے خاتمے کے بعد عراق میں ہونے والے یہ مہلک ترین حملے ہیں۔ عراق کے تیسرے بڑے شہر موصل کے دیہاتوں قہطانیہ اور عدنانیہ میں ہونے والے دھماکوں میں تین سو پچاس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔موقع پر موجود ایک سرکاری اہلکار کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان حملوں کا نشانہ کردستان سے تعلق رکھنے والے یزیدی فرقے کے لوگ بنے۔یزیدی فرقے کے لوگوں اور مقامی مسلمانوں میں گزشتہ کئی مہیبنوں سے شدید کشیدگی پائی جاتی تھی۔ یہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی تھی جب یزیدی فرقے کی ایک لڑکی کو اسلام قبول کرنے پر اس کے فرقے کے لوگوں نے سنگسار کر دیا تھا۔ موصل کے پولیس سربراہ نے بتایا کہ بم دھماکوں سے کئی گھروں کی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں اور وہ یہ بات یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا یا نہیں کیونکہ انہیں خود اس کے بارے میں متضاد اطلاعات مل رہی ہیں۔ عراق میں امریکی فوج نے ان حملوں کا الزام القاعدہ پر لگایا ہے تاہم فوج نے تسلیم کیا ہے کہ مزاحمت کاروں سے نمٹنا ایک مشکل کام ہے۔ بریگیڈیئر جنرل کیون برگنر کا کہنا تھا کہ موصل کے ’بڑے‘ حملے القاعدہ کےان حملوں کے عکاس ہیں جن میں انسانی زندگی کی قدر نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت کاروں کے خلاف جاری امریکی کارروائی کے دوران القاعدہ کی جانب سے ایسے حملوں کا خدشہ موجود تھا۔
بغداد سے بی بی سی کے نامہ نگار رچرڈ گیلپن نے بتایا ہے کہ چونکہ امریکی فوجوں کی زیادہ توجہ بغداد پر مرکوز ہے اس لیے حکام کو خدشہ ہے کہ مزاحمت کاروں نے اپنی کارروائیوں کا رخ ملک کے دیگر علاقوں کی جانب موڑ دیا ہے جہاں وہ آسان اہداف کو نشانہ بنا سکیں۔ عراق میں امریکی فوجوں کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریس دہشتگردوں کا صفایا کرنے کے لیے جاری امریکی فوج کی حالیہ کارروائی کے بارے میں اپنی رپورٹ ستمبر میں پیش کریں گے۔ عراقی وزیراعظم نوری المالکی اور اور ملک کے صدر جلال طالبانی، جو خود کرد ہیں، نے بھی موصل حملوں کی مذمت کی ہے جبکہ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے امریکی فوجیں اور عراقی حکومت ’پتھر دل قاتلوں اور اخلاق سے گرے ہوئے لوگوں‘ کے خلاف جنگ کرتے رہیں گے۔ ۔
عینی شاہدین ایک دھماکے میں زخمی ہونے والے یزیدی فرقے کے تیس سالہ خادر شامو نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ دھماکے نے مجھے اور میرا دوست کو ہوا میں اچھال دیا۔ مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا ہوا تھا۔‘ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں کم از کم ایک حملے میں ایک آئل ٹینکر استعمال کیا گیا ہے۔ ایک نزدیکی گاؤں سِنجل کے میئر داخم قاسم نے خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہم ابھی تک اپنے ہاتھوں اور بیلچوں کے ساتھ ملبہ ہٹا رہے ہیں۔ ہم کرینوں کا استعمال نہیں کر سکتے کیونکہ زیادہ تر گھر گارے سے بنے ہوئے ہیں‘۔ میئر کا کہنا تھا کہ چار ٹرک قہطانیہ میں مختلف سمتوں سے آئے اور چند منٹ کے وقفے سے پھٹتے گئے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان دھماکوں میں دو سو افراد ہلاک اور تین سو زخمی ہوئے ہیں اور یہ کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ میئر نے مزید کہا کہ ان حملے میں ان غریب یزیدی لوگوں کو نشانہ بنایا گیا جن کا عراق میں جاری مسلح تصادم سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ہسپتال میں زخمیوں کو خون کا عطیہ دینے والے ایک چالیس سالہ یزیدی استاد غسان سلیم کا کہنا تھا: ’ میں نے ہسپتال میں خون دیا، میں نے وہاں کئی ایسے زخمی دیکھے جن کی ہاتھ یا ٹانگیں کٹ چکی تھیں۔‘ شہریوں کو نشانہ بنانا ان حملوں کے بارے میں عراق میں امریکی فوج نے کہا کہ بموں سے لدے ہوئے پانچ ٹرکوں کو قہطانیہ اور الجزیرہ کے دیہاتوں میں پھاڑا گیا، جس کے نتیجے میں ساٹھ عراقی شہری ہلاک اور کئی زخمی ہوئے جن کی تعداد معلوم نہیں۔ خبررساں ادارے رائٹرز نے بتایاہے کہ امریکی فوج کا کہنا ہے انہوں نے زخمیوں کو تلعفر اور سنجار کے ہسپتالوں تک پہنچایا۔
علاقے میں امریکی فوجی دستے کے سربراہ میجر روجر لیمنز نے کہا: ’ اس حملے نے ایک بار پھر دکھایا ہے کہ دہشتگرد عراق کے لوگوں کو تقسیم کرنے کی غرض سے معصوم لوگوں کو، جن میں اکثر عورتیں اور بچے شامل ہوتے ہیں، نشانہ بناتے ہیں۔ لیکن یہ دہشتگرد کامیاب نہیں ہوں گے۔‘ دریں اثناء بغداد کے مغرب میں فلوجہ کے قریب ایک امریکی ہیلی کاپٹر کے تباہ ہونے سے پانچ امریکی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ شنوک ہیلی کاپٹر مرمت کے بعد تجرباتی پرواز پر تھا جب اس کو یہ حادثہ پیش آیا۔ اس سے قبل امریکی فوج نے نینوا اور بغداد میں پیش آنے والے تشدد کے مختلف واقعات میں چار فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ پولیس حکام کے مطابق بغداد میں ایک پل پر خودکش کار بم دھماکے میں دس افراد ہلاک ہو گئے۔ اس دھماکے کی وجہ سے کئی گاڑیاں پل سے دریا میں جا گریں۔ تشدد کے ایک اور واقعہ میں پچاس مزاحمت کار جو وردیوں میں ملبوس تھے تیل کے نائب وزیر سمیت کئی حکام کو اغواء کرکے لے گئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق بغداد میں سترہ گاڑیوں پر سوار مزاحمت کاروں نے تیل کی وزارت پر دھاوا بول دیا۔ |
اسی بارے میں بہتری کا دارومدار انخلاء پر: ایران09 August, 2007 | آس پاس عراق: اقوام متحدہ کی نئی قرارداد10 August, 2007 | آس پاس عراق بم دھماکہ گورنر ہلاک11 August, 2007 | آس پاس آٹھ اتحادی فوجیوں کی ہلاکتیں12 August, 2007 | آس پاس عراق: نیا امریکی فوجی آپریشن14 August, 2007 | آس پاس عراق اور امریکی مشکالات14 August, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||