عراق: سیاسی بحران کےحل کی کوششیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی رہنماؤں نے ملاقاتوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ اس سیاسی بحران کو ختم کرنے کی کوئی صورت نکالی جا سکے جو کابینہ کے تقریباً آدھے اراکین کے علیحدہ ہو جانے سے پیدا ہو گیا ہے۔ عراق کی شیعہ اکثریت کے رہنماؤں نے دو ہفتے قبل پہلی مرتبہ سنی اور کرد برادری کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد عراقی صدر کے ایک مشیر نے کہا کہ ایک خاص مسئلے پر کچھ بات آگے بڑھی ہے اور وہ ہے صدام حسین کی بعث پارٹی کے سابق اراکین پر حکومت میں کام کرنے کے لیے جو پابندیاں ہیں ان میں نرمی لانے کے سوال پر۔ عراقی وزیر اعظم نور المالکی پر امریکی صدر بُش کی طرف سے شدید دباؤ پڑ رہا ہے کہ وہ سیاسی جمود کو ختم کریں۔ شیعوں کی سب سے بڑی پارٹیوں اور کرد گروپوں نے حال ہی میں ایک نیا اتحاد قائم کیا ہے لیکن سُنی دھڑوں نے اس اتحاد میں شریک ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ | اسی بارے میں ’عراق میں مقامی سطح پر پیش رفت‘ 18 August, 2007 | آس پاس عراقی حکومت کو شدید دھچکا07 August, 2007 | آس پاس عراق: اقوام متحدہ کی نئی قرارداد10 August, 2007 | آس پاس عراق اور امریکی مشکالات14 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||